تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 584
کرنےوالوں کی نہیں رہے گی تو اللہ تعالیٰ فرمائےگا۔اب چونکہ تم خود بد عمل ہو گئے ہو اس لئے میں اپنی نعمت تم سے چھین لیتا ہوں ( گوخدا چاہے تو بطور احسان ایک عرصہ تک پھر بھی جماعت میں خلفاء بھجواتا رہے ) پس وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ خلیفہ خراب ہوگیا ہے وہ بالفاظ دیگراس امر کا اعلان کرتا ہے کہ جماعت کی اکثریت ایمان اور عمل صالح سے محروم ہو چکی ہے۔کیونکہ خدا کا یہ وعدہ ہے کہ جب تک امت ایمان اور عمل صالح پرقائم رہے گی اس میں خلفاء آتے رہیں گے اور جب وہ اس سے محروم ہو جائےگی تو خلفاء کا آنا بھی بند ہو جائےگا۔پس خلیفہ کے بگڑنے کا کوئی امکان نہیں ہاں اس بات کا ہر وقت امکان ہو سکتا ہے کہ جماعت کی اکثریت ایمان اور عمل صالح سے محروم نہ ہو جائے۔چوتھی علامت خلفاء کی اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ ان کے دینی احکام اور خیالات کو اللہ تعالیٰ دنیا میں پھیلائے گا۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ کہ اللہ تعالیٰ اُن کے دین کو تمکین دےگا اور باوجود مخالف حالات کے اُسے دنیا میں قائم کر ے گا۔یہ ایک زبردست ثبوت خلافتِ حقہ کی تائید میں ہے اور جب اس پر غور کیا جاتا ہے تو خلفاء کی صداقت پر خدا تعالیٰ کا یہ ایک بہت بڑا نشان نظر آتا ہے۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما ایسے خاندانوں میں سے تھے جو عرب میں کوئی جتھہ نہیں رکھتے تھے لیکن حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی رضی اللہ عنہماایسے خاندانوں میں سے تھے جو عرب میں جتھے رکھتے تھے۔چنانچہ بنو عبدالشمس حضرت عثمان ؓ کے حق میں تھے اور بنو عبدالمطلب حضرت علی ؓ کے حق میں اور ان دونوں کو عرب میں بڑی قوت حاصل تھی۔جب خلافت میں تنزل واقع ہو ا اور مسلمانوں کی اکثریت میں سے ایمان اور عمل صالح جاتا رہا تو حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ کی شہادت کے بعد بنو عبدالشمس نے مسلمانوں پر تسلط جما لیا۔اور یہ وہ لوگ تھے جو حضرت عثمان ؓ سے تعلق رکھتے تھے۔چنانچہ ان کی حکومت کے دوران میں حضرت علی ؓ کی تو مذمت ہوتی رہی اور حضرت عثمان ؓ کی خوبیاں بیان ہوتی رہیں۔حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے مداح اور ان کی خوبیوں کا ذکر کرنےوالے اس دور میں بہت ہی کم تھے۔اس کے بعد حالات میں پھر تغّیر پیدا ہوا اور بنو عبدالشمس کی جگہ بنو عبدالمطلب نے قبضہ کر لیا یعنی بغداد میں دولتِ عباسیہ قائم ہو گئی اور یہ وہ لوگ تھے جو اہلِ بیت سے تعلق رکھتے تھے چنانچہ ان کا تما م زور حضرت علی ؓ کی تعریف اور آپ کی خوبیاں بیان کرنے پر صرف ہونے لگ گیا۔(تاریخ الطبری خلافة ابی العباس ذکر الخبر عن سبب خلافتہ)۔اس طرح کئی سو سال تک مسلمانوں کا ایک حصہ حضرت عثمان ؓ کے اوصاف شمار کرتا رہا اور ایک حصہ حضرت علی ؓ کے اوصاف شمار کرتا رہا۔مگر باوجود اس کے کہ خلفاء اربعہ کے بعد اسلامی حکومتوں کے یہ دو دَور آئے اور دونوں ایسے تھے کہ ان میں حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ