تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 575

خاندانوں کی تباہی کا باعث بنیں۔اسی طرح اقامت صلوٰۃ بھی اپنے صحیح معنوں میں خلافت کے بغیر نہیں ہو سکتی۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ صلوٰۃ کا بہترین حصہ جمعہ ہے جس میں خطبہ پڑھا جاتا ہے اور قومی ضرورتوں کو لوگوں کے سامنے رکھا جاتا ہے۔اب اگر خلافت کا نظام نہ ہو تو قومی ضروریات کا پتہ کس طرح لگ سکتا ہے۔مثلاً پاکستان کی جماعتوں کو کیا علم ہو سکتا ہے کہ چین اور جاپان اور دیگر ممالک میں اشاعتِ اسلام کے سلسلہ میں کیا ہو رہا ہے اور اسلام اُن سے کن قربانیوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔اگر ایک مرکز ہوگا اور ایک خلیفہ ہو گا جو تما م مسلمانوں کے نزدیک واجب الاطاعت ہوگا تو اُسے تمام اکناف ِ عالم سے رپورٹیں پہنچتی رہیں گی کہ یہاں یہ ہو رہا ہے اور وہاں وہ ہو رہا ہے اور اس طرح وہ لوگوں کو بتا سکے گا کہ آج فلاں قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہے اور آج فلاں قسم کی خدمات کے لئے آپ کو پیش کرنے کی حاجت ہے۔اسی لئے حنفیوں کا یہ فتویٰ ہے کہ جب تک مسلمانوں میں کوئی سلطان نہ ہو جمعہ پڑھنا جائز نہیں (المختصر للقدوری باب صلوٰة الجمعة)۔اور اس کی تہ میں یہی حکمت ہے جو میں نے بیان کی ہے اسی طرح عیدین کی نمازیں ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یہ امر ثابت ہے کہ آپ ہمیشہ قومی ضرورتوں کے مطابق خطبات پڑھا کرتے تھے۔مگر جب خلافت کا نظام نہ رہے تو انفرادی رنگ میں کسی کو قومی ضرورتوں کا کیا علم ہو سکتا ہے۔اور وہ ان کو کس طرح اپنے خطبات میں بیان کر سکتا ہے۔بلکہ بالکل ممکن ہے کہ حالات سے ناواقفیت کی وجہ سے وہ خود بھی دھوکا میں مبتلا رہے اور دوسروں کو بھی دھوکہ میں مبتلا رکھے۔میں نے ایک دفعہ کہیں پڑھا کہ آج سے ستر اسّی سال پہلے ایک شخص بیکانیر کے علاقہ کی طرف سیر کرنے کے لئے نکل گیا۔جمعہ کا دن تھا وہ ایک مسجد میں نمازپڑھنے کے لئے گیا تو اُس نے دیکھا کہ امام نے پہلے فارسی زبان میں مروجہ خطبات میں سے کوئی ایک خطبہ پڑھا اور پھر ان لوگوں سے جو مسجد میں موجود تھے کہا کہ آئو اب ہاتھ اٹھا کر دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ امیر المومنین جہانگیر بادشاہ کو سلامت رکھے۔اب اُس بیچارے کو اتنا بھی معلوم نہ تھا کہ جہانگیر بادشاہ کو فوت ہوئے سینکڑوں سال گذر چکے ہیں اور اب جہانگیر نہیں بلکہ انگریز حکمران ہیں۔غرض جمعہ جو نماز کا بہترین حصہ ہے اسی صورت میں احسن طریق پر ادا ہو سکتا ہے جب مسلمانوں میں خلافت کا نظام موجو د ہو۔چنانچہ دیکھ لو ہمارے اندر چونکہ ایک نظام ہے اس لئے میرے خطبات ہمیشہ اہم وقتی ضروریات کے متعلق ہوتے ہیں۔اور یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ کئی غیر احمدی بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔درحقیقت لیڈر کا کام لوگوں کی رہنمائی کرنا ہوتا ہے مگر یہ رہنمائی وہی شخص کر سکتا ہے جس کے پاس دنیا کے اکثر