تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 574
وقت رسول کی اطاعت اسی رنگ میں ہوگی کہ اشاعت و تمکین دین کے لئے نمازیں قائم کی جائیں۔زکوٰتیں دی جائیں اور خلفاء کی پورے طور پر اطاعت کی جائے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اقامت صلوٰۃ اپنے صحیح معنوں میں خلافت کے بغیر نہیں ہو سکتی اور زکوٰۃ کی ادائیگی بھی خلافت کے بغیر نہیں ہو سکتی۔چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زکوٰۃ کی وصولی کا باقاعدہ انتظام تھا۔پھر جب آپ کی وفات ہو گئی اور حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ ہوگئے تو اہل عرب کے کثیر حصہ نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ حکم صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص تھا۔بعد کے خلفاء کے لئے نہیں مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اُن کے اس مطالبہ کو تسلیم نہ کیا بلکہ فرمایا کہ اگر یہ لوگ اونٹ کے گھٹنے کو باندھنے والی رسی بھی زکوٰۃ میں دینے سے انکار کر یں گے تو میں ان سے جنگ جاری رکھوں گا اور اس وقت تک بس نہیں کروںگا جب تک اُن سے اُسی رنگ میں زکوٰۃ وصول نہ کرلوں جس رنگ میں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ادا کیا کرتے تھے (تاریخ الخمیس ذکر بدء الردة والبدایة والنھایة زیر عنوان فی تنقید جیش اسامة بن زید)۔چنانچہ آپ اس مہم میں کامیاب ہوئے اور زکوٰۃ کا نظام پھر جاری ہوگیا جو بعد کے خلفاء کے زمانوں میں بھی جاری رہا۔مگر جب سے خلافت جاتی رہی مسلمانوں میں زکوٰۃ کی وصولی کا بھی کوئی انتظام نہ رہا اور یہی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا تھا کہ اگر خلافت کا نظام نہ ہو تو مسلمان زکوٰۃ کے حکم پر عمل ہی نہیں کر سکتے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ زکوٰۃ جیسا کہ اسلامی تعلیم کا منشاء ہے امراء سے لی جاتی ہے اور ایک نظام کے ماتحت غرباء کی ضروریات پر خرچ کی جاتی ہے۔اب ایسا وہیں ہو سکتا ہے۔جہاں ایک باقاعدہ نظام ہو۔اکیلا آدمی اگر چند غرباء میں زکوٰۃ کا روپیہ تقسیم بھی کر دے تو اُس کے وہ خوشگوار نتائج کہاں نکل سکتے ہیں جو اُس صورت میں نکل سکتے ہیں جبکہ زکوٰۃ ساری جماعت سے وصول کی جائے اور ساری جماعت کے غرباء میں تقسیم کی جائے۔یہ مسئلہ اُن سارے اسلامی بادشاہوں کو مجرم قرار دیتا ہے جو سرکاری بیت المال کو اپنی ذات پر اور اپنے تعیش پر قربان کرتے تھے اور بڑے بڑے محل اور بڑی بڑی سیرگاہیں بناتے تھے۔اگر پبلک اس کا آرڈر دیتی چونکہ اس کا روپیہ تھا جائز ہوتا بشرطیکہ اسراف نہ ہوتا لیکن پبلک نے کبھی آرڈر نہیں دیا اور پھر وہ اسراف کی حد سے بھی آگے نکلا ہوا تھا۔اس لئے یہ سارے کام ناجائز تھے۔اور ان لوگوں کو گنہگار بناتے تھے۔نہ اسلام کو تختِ طائوس کی ضرورت تھی نہ تاج محل کی ضرورت تھی نہ قصر زہرہ کی ضرورت تھی نہ بغداد کے محلات ہارون الرشید کی ضرورت تھی۔یہ ساری کی ساری چیزیں اسلامی شوکت کی بجائے چند افراد کی شوکت ظاہر کرنے کے لئے بنائی گئی تھیں۔اسی لئے آخر میں ان