تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 570

الفاظ نے بتا دیا کہ خدا تعالیٰ نے اس حصہ کو بھی دین کا ایک جزو قرار دیا ہے علیٰحدہ نہیں رکھا۔یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور کی ان زیر تفسیر آیات میں بیان فرمایا ہے اور مسلمانوں کو بتا یا ہے کہ تمہارا صرف منہ سے خدا اور رسول پر ایمان لانے کا دعویٰ کرنا کوئی چیز نہیں تمہارا ایمان اس وقت قابل قبول سمجھا جاسکتا ہے جب تم اپنے ہر معاملہ میں خدا اور اس کے رسول کو حَکَم تسلیم کرو اور کسی بات میں بھی اُن کے احکام سے انحراف کرنےکی جرأت نہ کرو۔وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ اَمَرْتَهُمْ اور وہ لوگ اللہ (تعالیٰ) کی پکی قسمیں کھاتے ہیں۔کہ اگرتو اُن کو حکم دے تو وہ فوراً گھروں سے نکل کھڑے لَيَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ ہوںگے۔کہو قسمیں نہ کھائو۔ہمارا حکم تو تمہیں صرف ایسی اطاعت کا ہے جو عرفِ عام میں اطاعت سمجھی جاتی ہے خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۰۰۵۴قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا اللہ( تعالیٰ) اُس سے جو تم کرتے ہو یقیناً خبر دار ہے۔تو کہہ اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَيْكُمْ مَّا پس اگر وہ پھر جائیں تو اس( رسول) پر صرف اس کی ذمہ داری ہے جو اُس کے ذمہ لگا یا گیا ہے۔اور تم پر اُس کی حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا ذمہ واری جو تمہارے ذمہ لگا یا گیا ہے۔اور اگر تم اس کی اطاعت کرو تو ہدایت پا جائو گے۔اور رسول کے الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ۰۰۵۵ ذمہ تو بات کو کھول کر پہنچا دینا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے یہ لوگ پکی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ہم کو لڑنے کا بھی حکم دیا گیا تو ہم ضرور لڑیں گے۔تُو ان سے کہہ دے کہ قسمیں کھانے کا کوئی فائدہ نہیں مومنوں والی اطاعت کا نمونہ اصل چیز ہے۔قسمیں تو منافق سے منافق انسان بھی کھا لیتا ہے۔پس اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور بڑھ بڑھ کر باتیں نہ بنائو۔مومنانہ طریق تو یہ ہوتا