تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 569
اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ اَنْ يَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ( النور :۵۲ )کہ مومنوں کو جب خدا اور اس کا رسول بلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آئو ہم تمہارے جھگڑے کا فیصلہ کردیں تو وہ یہی کہتے ہیں کہ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۔حضور کا حکم ہم نے سُن لیا اور ہم ہمیشہ حضور کی اطاعت کر یں گے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ یہی لوگ ہیں جو کامیا ب ہو ںگے اور ہمیشہ مظفر و منصور رہیں گے۔اب ایک طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کے ساتھ ایمان کو وابستہ قرار دینا اور دوسری طرف انہی لوگوں کو کامیاب قرار دینا جو سَمِعْنَا اور اَطَعْنَا کہیں اور آپ کے کسی فیصلہ کے خلاف نہ چلیں بتا تا ہے کہ اگر کوئی شخص ان احکام کو نہ مانے تو وہ خدائی گرفت میں آجاتا ہے۔اسی مضمون کی طرف سورۂ نساء میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں توجہ دلائی ہے کہفَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا ( النساء :۶۶) یعنی یہ لوگ کبھی مومن نہیں کہلا سکتے جب تک یہ اپنے جھگڑوں میں اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے حَکَم تسلیم نہ کریں اور پھر تیری قضا ء پر دل و جان سے وہ راضی نہ ہوں۔اس آیت کریمہ میں دو نہایت اہم باتیں بیان کی گئی ہیں اوّل یہ کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری قاضی قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ آپ کے فیصلہ پر کسی اور کے پاس کسی کو اپیل کا ہر گز حق حاصل نہیں ہوگا اور آخری فیصلہ کا حق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دینا بتا تا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو حکومت کے اختیارات حاصل تھے۔دوسری بات جو اس سے ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ان فیصلوں کے تسلیم کرنے کو ایمان کا جزو قرار دیتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ تیرے رب کی قسم وہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک وہ تیرے فیصلوں کو تسلیم نہ کریں۔گویا یہ بھی دین کا ایک حصہ ہے اور ایسا ہی حصہ ہے جیسے نماز دین کا حصہ ہے۔جیسے روزہ دین کا حصہ ہے۔جیسے حج اور زکوٰۃ دین کا حصہ ہے۔فرض کرو زید اور بکر کا آپس میں جھگڑا ہو جاتا ہے۔ایک کہتا ہے میں نے دوسرے سے دس روپے لینے ہیں اور دوسرا کہتا ہے کہ میں نے کوئی روپیہ نہیں دینا۔دونوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچتے ہیں۔اور اپنے جھگڑے کو آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کے حق میں فیصلہ کر دیتے ہیں تو دوسرا اس فیصلہ کو اگر نہیں مانتا تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے وہ مومن نہیں رہا۔پس باوجود یہ کہ وہ نماز پڑھتا ہوگا وہ روزے رکھتا ہوگا وہ زکوٰۃ دیتا ہوگا۔وہ حج کرتا ہوگا۔اگر وہ اس حصہ میں آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا فتویٰ اس کے متعلق یہی ہے کہ اس انکار کے بعد وہ مومن نہیں رہا۔پس لَا یُؤْ مِنُوْنَ کے