تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 566
اُس نے عاجزی کی او ر اس کے سامنے جُھک گیا ( اقرب) پس مُذْعِنٌ کے معنے ہوںگے جلدی اطاعت کرنےوالا اور مُذْعِنِیْنَ کے معنے ہوںگے جلدی اطاعت کرنے والے۔یَحِیْفُ۔یَحِیْفُ حَافَ سے مضارع کا صیغہ ہے اور حَافَ عَلَیْہِ کے معنے ہوتے ہیں جَارَ وَظَلَمَ۔اُس پر ظلم کیا اور زیادتی کی۔( اقرب) پس یَحِیْفُ کے معنے ہوںگے وہ ظلم اور زیادتی کرےگا۔تفسیر۔فرماتا ہے بعض لوگ اللہ اور رسو ل کے ساتھ ہونے کا دعویٰ تو کر دیتے ہیں لیکن جب آزمائش کا موقعہ آتا ہے تو وہ پیٹھ پھیر لیتے ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ مومن نہیں اور وقت پر کچے دھاگے ثابت ہوتے ہیں۔ہاں اگر اُن کو کچھ ملنا ہو تو دوڑے چلے آتے ہیں اور اگر نہ ملنا ہو تو بھاگ جاتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ یا تو ان کے دلوں میں کوئی بیماری ہے یا اُن کو ایمان نصیب نہیں ہو ا۔یا وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کی بات کو مانا تو اُن کو نقصان پہنچے گا۔اس کے مقابل میں مومنوں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ جب اُن کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف کسی فیصلہ کے لئے بلایا جاتا ہے تو وہ کہتے کہ ہم نے سُن لیا اور عمل سے اطاعت کرتے ہیں اور آخر اس کے نتیجہ میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔کیونکہ اللہ اور رسول کی اطاعت اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور اُس کا تقویٰ اختیار کرنے کے نتیجہ میں انسان ہمیشہ کامیاب ہی ہوا کرتا ہے۔یہ آیات قومی ترقی سے تعلق رکھنے والے ایک نہایت ہی اہم اصل پر مشتمل ہیں اور ان میں بتا یا گیا ہے کہ آپس کے اختلافات میں جب تک خدا اور اس کے رسول کو حَکَم نہ بنایا جائے اُس وقت تک مسلمان بہ حیثیت مجموعی کبھی ترقی حاصل نہیں کرسکتے۔یہ منافقت اور بے ایمانی کی علامت ہوتی ہے کہ جہاں اپنا فائدہ دیکھا وہاں تو خدا اور اس کے رسول کی بات مان لی۔اور جہاں یہ نظر آیا کہ اگر میں نے خدا اور اُس کے رسول کی بات مانی تو مجھے نقصان پہنچے گا وہاں ان کے فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔اسلام اس قسم کی منافقت کو جائز قرار نہیں دیتا۔وہ کہتا ہے کہ تمہارے ایمان کی علامت یہ ہے کہ تم نہ صرف مذہبی امور میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرو بلکہ اپنے سیاسی اور معاشرتی امور میں بھی آپ کی اقتداء کرو او ر آپ کو اپنا حَکَم تسلیم کرو۔درحقیقت اسلام اُن مذاہب میں سے نہیں جو مذہب کا دائرہ عمل صرف چند عبادات اور افکار تک محدود رکھتے ہیں اور امورِ اعمالِ دنیوی کو ایک علیٰحدہ عمل قرار دیتے ہیں اور اُن میں کوئی دخل نہیں دیتے۔ایسے مذہب یہ تو کہیں گے کہ نمازیوُں پڑھو۔روزے یُوں رکھو۔صدقہ و خیرات یوں کرو۔لوگوں کے حقوق یوں بجا لائو مگر کوئی ایسا حکم نہیں دیں گے جس کا نظام کے ساتھ تعلق ہو یا اقتصادیات کے ساتھ تعلق ہو۔یا بین الاقوامی حالات کے ساتھ تعلق ہو یا لین دین کے معاملات کے ساتھ تعلق ہو یا