تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 565
وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ اِذَا فَرِيْقٌ اس کے رسول کی طرف اس لئے بلایا جاتا ہے تا کہ وہ اُ ن کے درمیان فیصلہ کرے۔تو اُن میں سے ایک گروہ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ۰۰۴۹وَ اِنْ يَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ يَاْتُوْۤا اِلَيْهِ اعراض کر نے لگ جاتا ہے۔اور اگر کوئی بات اُن کے حق میں ہو تو وہ فوراً اظہار اطاعت کر تے ہوئے مُذْعِنِيْنَؕ۰۰۵۰اَفِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ يَخَافُوْنَ آجاتے ہیں۔کیا اُن کے دلوں میں کوئی بیماری ہے ؟ یا وہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں یا وہ ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اَنْ يَّحِيْفَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ اُس کا رسول اُ ن پر ظلم کرےگا۔ایساہر گز نہیں بلکہ وہ خود ظالم ہیں۔مومنوں کا جواب جب وہ اللہ اور الظّٰلِمُوْنَؒ۰۰۵۱اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اُس کے رسول کی طرف بلائے جائیں کہ وہ اُن کے درمیان فیصلہ کریں یہ ہوا کرتا ہے کہ ہم نے سنا اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ اَنْ يَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اور ہم نے مان لیا۔اور وہی لوگ کامیاب ہوا کرتے ہیں۔اور جو لوگ اللہ اور اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۰۰۵۲وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ اس کے رسول کی اطاعت کریں اور اللہ سے ڈریں اور رَسُوْلَهٗ وَ يَخْشَ اللّٰهَ وَ يَتَّقْهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۠۰۰۵۳ اس کا تقویٰ اختیار کریں وہ با مراد ہو جاتے ہیں۔حلّ لُغَات۔مُذْعِنِیْنَ۔اَذْعَنَ سے اسم فاعل کا صیغہ مُذْعِنٌ آتا ہے اور مُذْعِنِیْنَ جمع کا صیغہ ہے۔اَذْعَنَ الرَّجُلُ کے معنے ہوتے ہیں۔اَسْرَعَ الطَّاعَۃَ اُس نے جلدی سے اطاعت کی۔خَضَعَ وَذَلَّ وَاِنْقَادَ۔