تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 541
ہے لیکن اسلام اُس مال سے زکوٰۃ وصول کرتا ہے جو انسان کے پاس جمع ہو۔اور جس پر ایک سال گذر گیا ہو۔فرض کرو ایک شخص دس ہزار روپیہ سالانہ کماتا ہے اور گورنمنٹ اُس سے ٹیکس لے لیتی ہے اور وہ ٹیکس زکوٰۃ سے زیادہ ہے تو ہم کہیں گے کہ اب ایسے شخص پر زکوٰۃ واجب نہیں۔جیسے زمیندار سے بھی گورنمنٹ مالیہ وصول کر لیتی ہے تو اس کے بعد اگر وہ مالیہ زکوٰۃ کے برابر یا اس سے زیادہ ہوتا ہے تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں رہتی۔لیکن اگر کوئی زمیندار معاملہ ادا کرنے کے بعد اپنے اخراجات میں کفایت سے کام لینا شروع کر دیتا ہے اور اس طرح وہ کچھ روپیہ پس انداز کر لیتا ہے جس پر ایک سال گذر جاتا ہے تواس روپیہ پر زکوٰۃ کا حکم عائد ہو جائےگا۔فرض کرو اُس نے کفایت کرتے کرتے پانچ ہزار روپیہ جمع کر لیا ہے اور اس پانچ ہزار روپیہ پرایک سال گذر گیا ہے تو اسلام کی طرف سے اس پر زکوٰۃ کا ٹیکس لگ جائے گا۔پس جمع شدہ مال پر جب سال گذر جائے اور وہ مال زکوٰۃ کے نصاب کے اندر ہو توشریعت کی طرف سے زکوٰۃ کا حکم انسان پر عائد ہو جاتا ہے خواہ وہ زمیندار کا مال ہو یا تاجر کا ہو یا کسی اور کاہو۔ہاں اس مال پرجس میں سے گورنمنٹ نے زکوٰۃ کے برابر یا اس سے زائد ٹیکس لے لیا ہو زکوٰۃ واجب نہیں۔مگر کچھ نہ کچھ رقم ثواب میں شمولیت کے لئے اسے طوعی طور پر پھر بھی دینی چاہیے ہاں اگر انکم ٹیکس یا مالیہ کم ہو اور زکوٰۃ یا عُشر اس پر زیادہ عائد ہوتا ہو تو پھر جتنی کمی رہ جائےگی اُس کو پورا کرنا اُس کا فرض ہوگا۔فرض کرو زکوٰۃ کے بیس روپے کسی شخص کے ذمے تھے گورنمنٹ نے ٹیکس کے ذریعے پندرہ روپے وصول کر لئے تو باقی پانچ روپے اسلام کا قائم کردہ نظام اُس سے ضرور وصول کرے گا لیکن اگر گورنمنٹ نے اس سے ٹیکس اکیس روپے لے لئے ہیں تو پھر زکوٰۃ اس پر واجب نہیں ہوگی۔زکوٰۃ کا حکم ایسے شخص پر اُس صورت میں عائد ہوگا جب وہ اپنی آمد کو جمع رکھے اور پھر اس جمع شدہ مال پر بشرطیکہ وہ نصاب کے مطابق ہو ایک سال گذر جائے۔چوتھے زکوٰۃ کے علاوہ اسلام یہ بھی حکم دیتا ہے کہ سّراء اور ضّراء دونوںحالتوں میں انفاق فی سبیل اللہ سے کام لیا جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَرَّٓآئِ وَالضَّرَّٓآئِ( اٰل عمران :۱۳۵) مومن کشائش کی حالت میں بھی غرباء اور مساکین کی امداد کے لئے اپنے اموال خرچ کرتے ہیں اور تنگی کی حالت میں بھی خرچ کرتے ہیں۔یہ الفاظ بتاتے ہیںکہ اس جگہ اُس خرچ کا ذکر ہے جو زکوٰۃ کے علاوہ ہے کیونکہ اس میں کہا گیا ہے کہ مومن تنگی کی حالت میں بھی خرچ کرتے ہیں حالانکہ تنگدست پر زکوٰۃ فرض نہیں۔پس اس جگہ طوعی صدقہ مراد ہے زکوٰۃ مراد نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ دنیا میں ہر انسان پر خواہ وہ کس قدر مالدار ہو بعض تنگی کی حالتیں آتی ہیں اور بعض کشائش کی