تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 535

دونوں صورتیں ایسی ہیں جو ناجائز ہیں۔نہ اسلام ایک کو جائز قرار دیتا ہے نہ دوسری صورت کو درست تسلیم کرتا ہے۔ان مشکلات کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے ہمیں تسلیم کرنا پڑےگا کہ صنعت و حرفت اور تجارت کو روکا نہیں جا سکتا اور دوسری طرف قبول اسلام میں بھی کسی قسم کی دیوار حائل نہیں کی جاسکتی۔اس لئے ضروری ہے کہ ان دونوں حالتوں کے درمیان کوئی راستہ تلاش کیا جائے جس سے یہ دونوں مشکلات دُور ہو جائیں۔نہ دنیا کے تمدن اور اُس کی تہذیب کو نقصان پہنچے اور نہ اسلام میں داخل ہونے سے کسی شخص کو روکا جا سکے۔اسلام نے اسی نظریہ کے ماتحت بعض قواعد تجویز کئے ہیں اور بتایا ہے کہ ہم لوگوں کو دنیا کمانے سے منع نہیں کرتے۔وہ بے شک تجارت کریں وہ بیشک صنعت وحرفت اختیار کریں مگر اُن کے لئے ضروری ہے کہ وہ بعض قواعد کی پابندی اپنے اوپر لازم کر لیں تاکہ دین کو بھی کوئی نقصان نہ ہو۔اور دنیا کی مشکلات میں بھی کوئی اضافہ نہ ہو۔وہ ہدایتیں جو اسلام دنیا کمانے کے متعلق دیتا ہے یا مال و دولت اپنے پاس رکھنے والوں کے متعلق دیتاہے اُن میں سے بعض تجارت اور صنعت کے ساتھ خاص طور پر تعلق رکھتی ہیں۔اور بعض ایسی ہیں جو ہر ایسے شخص کے متعلق ہیں جس کے پاس کسی قسم کا بھی مال ہو خواہ اُس نے کسی اور ذریعہ سے ہی کیوں نہ کمایا ہو۔چنانچہ اس بارہ میں پہلا قاعدہ قرآن کریم میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر مسلمان رہتے ہوئے لوگ مال کمانا چاہیں تو اُن کی حالتلَا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ کی مصداق ہونی چاہیے۔یعنی وہ بیشک تجارت کریں وہ بیشک بیع کریں مگر یہ چیزیں دین کے راستہ میں روک نہیں ہونی چاہئیں۔اگر ایک شخص صنعت و حرفت کے ذریعہ مال کمانا چاہتا ہے تو اسلام کہتا ہے بیشک تم مال کمائو اور بیشک صنعت و حرفت اختیار کرو۔مگر دیکھو اس کے ساتھ ہی تمہیں پانچوں وقت نماز کے لئے مسجد میں آنا پڑےگا یا اگر ایک شخص تجارت کرنا چاہے تو اسلام کہےگا بیشک تجارت کرو مگر تمہیں پانچ وقت روزانہ اپنی دوکان بند کرکے مسجد میں آنا پڑ ے گا۔اسی طرح اگر تجارت اور صنعت و حرفت کرتے ہوئے روزوں کے ایام آجاتے ہیں تو تمہارا فرض ہے کہ تم روزے رکھو۔یہ نہ کہو کہ تجارت یا صنعت و حرفت میں مشغول رہنے کی وجہ سے روزے رکھنے ہمارے لئے مشکل ہیں۔اگر یہ چیزیں نماز کے راستہ میں روک بنتی ہیں اگر یہ چیزیں روزوں کے راستہ میںروک بنتی ہیں اگر یہ چیزیں دوسرے دین کے کاموں میں روک بنتی ہیں تو اُس وقت تمہارا فرض ہے کہ ان کاموں کو چھوڑ دو۔اور اپنے دین کو خراب ہونے سے محفوظ رکھو۔لیکن اگر یہ چیزیںدین کے راستہ میں روک نہیں تو پھر بیشک دنیا کمائو۔اسلام تمہیں اس سے منع نہیں کرتا۔اسی طرح ذکر الٰہی ہے۔اسلام کہتا ہے کہ پانچ نمازوں کے علاوہ اپنے اوقات میں سے کچھ وقت نکال کر علیٰحدگی میں خدا تعالیٰ کو یاد کیا کرو۔اُس کی حمد کرو اُس کی تسبیح کرو۔اُس کی بڑائی بیان کرو۔اس کی صفات پر غور کرو۔