تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 529
عطا کی جائےگی۔مگر تعجب ہے کہ جب رفع کا لفظ حضرت مسیح ناصری ؑ کے متعلق آجائے تو اس کے یہ معنے کر لئے جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے انہیں زندہ بجسدِ عنصری آسمان پر اُٹھا لیا(بحر محیط سورۃ المائدۃ زیر آیت واذ قال اللہ یا عیسٰی)۔حالانکہ یہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓ کے گھروں کے متعلق وہی لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر کوئی شخص نہیں کہتا کہ اُن کے گھروں کو اُٹھا کر آسمان پر لے جایا گیا تھا یا انہیں ہوا میں معلق کر دیا گیا تھا۔ہر شخص مانتا ہے کہ یہاں درجات کی بلندی مراد ہے۔اسی طرح حضرت مسیح ؑ کے متعلق بھی یہی معنے لئے جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت دی اور اُس لعنتی موت سے انہیں بچا لیا جس کا یہود انہیں شکار بنانا چاہتے تھے۔يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۔اس جگہ غدو سے مراد وقت الغدویعنی صبح کرنے کا وقت ہے۔اور چونکہ صبح کی نماز ایک ہی ہوتی ہے۔اس لئے یہاں وقت الغدو کے معنے ہی چسپاں ہوتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں آصال کا لفظ رکھا گیا ہے۔کیونکہ شام کی کئی نمازیں ہوتی ہیں۔ظہر بھی زوال کے بعد پڑھی جاتی ہے اور عصر ،مغرب اور عشاء کی نمازیں بھی شام ہی کے قریب ہوتی ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے شام کے لئے آصال کا لفظ رکھا۔رِجَالٌ لَّا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِيْتَآءِ الزَّكٰوةِمیں بتا یا کہ ان لوگوں کے ذکر الٰہی میں مشغول رہنے کے یہ معنے نہیں کہ وہ زراعت نہیں کرتے یا کوئی اور دنیوی کام نہیں کرتے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ تجارتیں تو کرتے ہیں مگر اُن کے دل خدا تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں اور اُن کے کان خدا تعالیٰ کی آواز سننے کے منتظر ہوتے ہیں۔جونہی اُن کے کانوں میں مؤذن کی آواز آتی ہے وہ اپنی تجارت کو چھوڑ کر اپنی زراعت کو چھوڑ کر اور اپنی صنعت و حرفت کو چھوڑ کر دوڑتے ہوئے مسجد میں حاضر ہو جاتے ہیں۔اسی طرح جب رات آتی ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ اس خیال سے کہ دن کو ہم نے ہل چلانا ہے یا کوئی اور مشقت کا کام کرنا ہے سوئے ہی رہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے نہ اٹھیں۔بلکہ جب تہجد کا وقت آتا ہے تو وہ فوراً بستر سے الگ ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی عبادت کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دین کے لئے ان لوگوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو اپنے آپ کو کلیۃً خدمت کے لئے وقف کر دیں مگر وہ شخص بھی ایک رنگ میں واقفِ زندگی ہے جس کے تمام اوقات خدا تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت گذرتے ہیں اور وہ ہر آن اور ہر گھڑی خدا تعالیٰ کے حکم پر لبیک کہنے کے لئے تیار رہتا ہے اگر وہ تجارت کرتا ہے تو اس لئے کہ خدا نے کہا ہے تجارت کرو۔اگر وہ زراعت کرتا ہے تو اس لئے کہ خدا نے کہا ہے زراعت کرو۔اگر وہ کسی اور پیشہ کی طرف توجہ کرتا ہے تو اس لئے کہ خدا نے کہا ہے کہ تم پیشوں کی طرف متوجہ ہو۔پس اس کی تجارت اُس کی زراعت اور اُس کی صنعت لَا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰه ِ