تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 510
معانی والے کہتے ہیں کہ اس جگہ نور کا لفظ مجاز اور استعارہ کے طور پر استعمال ہوا ہے اور مراد یہ ہے کہ جس طرح نور کے ذریعہ انسان کو بری اور بھلی چیزوں میں امتیاز کرنے کا موقعہ ملتا ہے۔اسی طرح نیکی اور بدی میں امتیاز خدا تعالیٰ کی ہدایت سے ہی میسر آتا ہے کیونکہ تمام آسمانی اور زمینی انوار کا منبع خدا تعالیٰ ہی ہے۔ٍ لغت والے کہتے ہیں کہ یہ ایک محاورہ ہے چنانچہ جس چیز پر کسی کا دارومدار ہو اُسے نور کہتے ہیں۔مثلاً نُوْرُ الْبَلَدِ اس آدمی کو کہتے ہیں جس پر کسی شہر کے لوگوں کا انحصار ہو اور نُوْرُ اْلقَبَائِلِ اس شخص کو کہتے ہیں جو قبائل کے لئے باعث ِ فخر ہو چونکہ خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر انسان کو کسی کام میں بھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔اس لئے اسے آسمانوں اور زمین کا نور کہا گیا ہے۔یہ سب باتیں اپنی اپنی جگہ درست ہیں لیکن میرے نزدیک یہاں اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کہہ کر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ زمین و آسمان میں تم جس چیز کو بھی روشن کرنا چاہو خدا تعالیٰ کا نور اُس میں داخل کر دو۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ چیز روشن ہو جائےگی اگر وہ نور مکان میں نازل ہوگا تو وہ مکان روشن ہو جائےگا۔اور اگر دل پر نازل ہو گا تو دل روشن ہو جائےگا۔یہی نور جب بیت اللہ پر نازل ہوا تو وہ دنیا کی ہدایت کا مرکز بن گیا۔پھر یہی نور مسجد نبوی ؐ پر نازل ہوا تو تمام مساجد کے لئے وہ ایک نمونہ قرار پاگئی حالانکہ بظاہر اینٹوں اور گارے کی ایک عمارت سے زیادہ اُس کی کیا حیثیت تھی۔پھر یہی نور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلبِ مطہر پر نازل ہو ا تو آپ عالمِ روحانی کے آفتاب بن گئے۔اسی طرح قرآن کیا ہے وہی حروف ہیں جن کو عربی زبان میں روزانہ استعمال کیا جاتا ہے۔وہی کاغذہوتا ہے جس پر تمام اخبارات اور کتابیں چھپتی ہیں۔وہی سیاہی ہوتی ہے جس سے گندے اور فحش اشعار بھی لکھے جاتے ہیں مگر اسی سیاہی سے لکھا ہوا اور اسی کاغذ پر چھپا ہوا جب قرآن آتا ہے تو وہ دنیا کی ہدایت کا موجب بن جاتا ہے۔یہ وہی خصوصیت ہے جسے اللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں بیان کیا گیاہے۔چونکہ خدا اس میں آگیا اس لئے وہ دنیا کی ہدایت کا ذریعہ بن گیا۔لیکن جہاں یہ نور نہ ہو وہاں ظلمت اور سیاہی کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔پھر اللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کہہ کر اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ روشنی کبھی مقید نہیں رہتی۔وہ ضرور باہر نکلتی اور پھیلتی ہے۔سیاہی اور ظلمت کا دائرہ بیشک محدود ہوتا ہے مگر روشنی ہمیشہ پھیلنے کی کوشش کرتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو وہ کرم شب چراغ جو رات کے وقت چمکتا ہے کتنا چھوٹا سا ہوتا ہے مگر کس طرح دور سے اس کی روشنی رات کے وقت نظر آتی ہے۔مسافر جب گائوں کے قریب آتا ہے تو کس طرح اُسے جھاڑیوں میں چمکتا ہوا دیکھ کر کہہ اٹھتا ہے کہ وہ گائوں آگیا۔اسی طرح جس شخص کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت کی چنگاری سُلگ اُٹھے اگر وہ اس کرم شب چراغ کے برابر بھی ہو تب بھی