تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 501
جنگ ہو اور جنگ بھی سیاسی نہیں بلکہ مذہبی ہو تو عین میدان جنگ میں قیدی پکڑے جا سکتے ہیں۔لیکن تمہیں یہ حق نہیں کہ بغیر کسی مذہبی جنگ کے دوسری اقوام کے افراد کو قیدی بنائو۔یا میدانِ جنگ میں تو نہ پکڑولیکن بعدمیںاُن کو گرفتار کرکے قیدی بنا لو۔قیدی بنانا صرف اس صورت میں جائز ہے جب کسی قوم سے باقاعدہ جنگ ہو اور عین میدانِ جنگ میں دشمن قوم کے افراد کو بطور جنگی قیدی گرفتار کر لیا جائے۔گویا وہ قوم جس کے خلاف اعلانِ جنگ نہیں ہوا اُس کے افراد کو پکڑنا جائز نہیں ہے اسی طرح وہ قوم جس سے جنگ ہو اس کے افراد کو بھی میدانِ جنگ کے علاوہ کسی اور جگہ سے بعد میں پکڑنا جائز نہیں ہے صرف لڑائی کے دوران میں لڑنے والے سپاہیوں کو یا اُن کو جو لڑنے والے سپاہیوں کی مدد کر رہے ہوں پکڑ لیا جائے تو یہ جائز ہوگا کیونکہ اگر اُن کو چھوڑ دیا جائے تو وہ بعد میں دوسرے لشکر میں شامل ہو کر مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔لیکن ان کے بارہ میں بھی اللہ تعالیٰ یہ ہدایت دیتا ہے کہ اِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً ( محمد:۵)یعنی بعد میں یا تو اُن کو احسان کے طور پر چھوڑ دو یا فدیہ لے کر چھوڑ دو۔پس یہ صورت تو اسلام میں جائز ہی نہیں کہ باوجود اس کے کہ کوئی شخص اپنا فدیہ پیش کرتا ہو پھر بھی اس کو غلام رکھا جائے اُسے بہر صورت یا تو احسان کے طور پر رہا کرنا پڑےگا یا فدیہ لےکر چھوڑنا پڑ ے گا۔مگر یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ موجود زمانہ میںیہ قاعدہ ہے کہ تاوانِ جنگ لڑنے والی قوم سے لیا جاتا ہے لیکن اسلام نے یہ طریق رکھا ہے کہ خود جنگی قیدی یا اُس کا رشتہ دار اس کا فدیہ ادا کرے۔بظاہر یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے زمانہ تک تنخواہ دار فوجیں نہیں ہوتی تھیں بلکہ دونوں طرف سے رضا کار لڑنے کے لئے آتے تھے۔پس چونکہ وہ لڑائی رضاکاروں کی لڑائی ہوتی تھی اس لئے فدیہ بھی رضا کاروں پر رکھا گیا۔اب چونکہ جنگ قومی ہوتی ہے اس لئے فدیہ قوم پر رکھا گیا ہے۔پس یہ بالکل جھوٹ ہے کہ اسلام نے غلامی کو قائم کیا ہے۔درحقیقت اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے غلامی کو دنیا سے مٹا یا لیکن اگر بفرض محال تسلیم بھی کر لو کہ اسلام نے غلامی کو جائز قرار دیا ہے تو بتائو کہ کیا آج کل کا انٹرنیشنل قانون جنگی قیدیوں کے ساتھ اس سے زیادہ حسنِ سلوک سکھاتا ہے۔آجکل تو اُن کی پہلی بیویوں کو بھی اُن کے پاس نہیں آنے دیتے کجایہ کہ خود اُن کی شادی کا انتظام کریں۔مگر اسلام کہتا ہے کہ جو کچھ خود کھائو وہی ان کو کھلائو۔جو کچھ خود پہنو وہی ان کو پہنائو۔اور پھر ان میں سے جوشادی کے قابل ہوں ان کی شادی کر دو تاکہ انہیں بھی سکونِ قلب حاصل ہو اور قوم میں بھی فواحش کا دروازہ بند رہے۔اس آیت میںاِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآئَ یُغْنِہِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ کہہ کراس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ محض غربت کے ڈر کی وجہ سے اُن کی شادی کرنے میں نہ ہچکچائو کیونکہ فضل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔اور وہ اس بات پر قادر ہے کہ