تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 490

صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مونہہ دیکھ لو تو میرے باپ کا کیا حق ہے کہ وہ اس کے خلاف چلے میں اب تمہارے سامنے کھڑی ہوں تم بے شک مجھے دیکھ لو۔( ابن ماجہ کتاب النکاح باب النظر الی المرأۃ اذا اراد ان یتزوجھا و مسند احمد بن حنبل مسند انس بن مالک)اگر وہ لڑکی کھلے منہ پھر اکرتی تو اُس نوجوان کو لڑکی کے باپ سے یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ مجھے اپنی لڑکی دکھا دیں۔اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارہ میں اجازت حاصل کرنے کا کیا مطلب تھا ؟ اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ اپنی ایک بیوی کے ساتھ جن کا نام صفیہ ؓ تھا شام کے وقت گلی میں سے گذر رہے تھے کہ آپ ؐ نے دیکھا کہ ایک آدمی سامنے سے آرہا ہے۔آپ ؐ کو کسی وجہ سے شبہ ہوا کہ اس کے دل میں شاید یہ خیال پیدا ہو کہ میرے ساتھ کوئی اورعورت ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی کے منہ پر سے نقاب اُلٹ دیا اور فرمایا کہ دیکھ لو یہ صفیہ ؓ ہے ( بخاری کتاب الاعتکاف باب ھل یخرج المعتکف لحوائجہ الی باب المسجدو مسند احمد بن حنبل مسند صفیۃ ام المومنینؓ) اگر مونہہ کھلا رکھنے کا حکم ہوتا تو اس قسم کے خطرہ کا کوئی احتمال ہی نہیں ہو سکتا تھا۔اسی طرح حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق آتا ہے کہ جب وہ جنگ جمل میں فوج کو لڑا رہی تھیں اور اُن کی ہودج کی رسیوں کو کاٹ کر گِرا دیا گیا۔تو ایک خبیث الطبع خارجی نے اُن کے ہودج کا پردہ اُٹھا کر کہا کہ اوہو ! یہ تو سُرخ و سفید رنگ کی عورت ہے(طبری سنۃ ۳۶ شدۃ القتال یوم الجمل و خبرا عین بن ضبیۃ واطلاعہ فی الھودج)۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں منہ کھلا رکھنے کا طریق رائج ہو تا تو جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہودج میں بیٹھی فوج کو لڑا رہی تھیں تو اس وقت وہ انہیں دیکھ چکا ہوتا اور اس کے لئے کوئی تعجب کی بات نہ ہوتی۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں منہ چھپانے کا حکم نہیں اُن سے ہم پوچھتے ہیں کہ قرآن کریم تو کہتا ہے کہ زینت چھپائو۔اور سب سے زیادہ زینت کی چیز چہرہ ہی ہے۔اگر چہرہ چھپانے کا حکم نہیں تو پھر زینت کیا چیز ہے۔جس کو چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔بیشک ہم اس حدتک قائل ہیں کہ چہرہ کو اس طرح چھپایا جائے کہ اس کا صحت پر کوئی برا اثر نہ پڑے۔مثلاًباریک کپڑا ڈال لیا جائے یا عرب عورتوں کی طرز کا نقاب بنا لیا جائے جس میں آنکھیں اور ناک کا نتھنا آزاد رہتا ہے۔مگر چہرہ کو پردہ سے باہر نہیں رکھا جا سکتا۔پھر فرماتا ہے وَ لَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىِٕهِنَّالخ اس قسم کی زینت سوائے اپنے خاندوں یا باپ دادوں کے یا اپنے خاوندوں کے باپ دادوں کے یا اپنے بیٹوں پوتوں کے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں پوتوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں پوتوں کے یا اپنی بہنوں کے بیٹوں پوتوں کے یا اپنے طور طریق