تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 489
طرف ہوتا ہے۔عربوں میں چاک کا رواج سامنے یعنی سینہ کی طرف تھا۔اور عرب کی عورتوں میں رواج تھا کہ وہ پیٹھ اور کندھے پر کپڑا ڈال لیتیں اور سینہ ننگا رکھتیں جس طرح آجکل یوروپین عورتیں کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ چاہیے کہ وہ اپنے خُمر کو جیوب پر ڈال لیں۔اور چونکہ اُن کے جیوب اگلی طرف ہوتے تھے اس لئے اس کے معنے یہ ہوئے کہ سر پر سے کپڑے کو کھینچ کر نیچے جیوب تک لے آئیں۔یعنی گھونگھٹ نکال لیں یہ معنے نہیں کہ دو پٹے کی آنچل کو اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں۔کیونکہ خمار کی آنچل نہیں ہوتی وہ چھوٹا ہوتا ہے۔اس کے معنے یہی ہیں کہ سر سے رومال کو اتنا نیچا کرو کہ وہ سینہ تک آجائے اور سامنے سے آنے والے آدمی کو منہ نہ نظر آئے۔یہ ہدایت بتارہی ہے کہ عورت کا مونہہ پر دہ میں شامل ہے مگر بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ عورت کے لئے منہ کا پردہ نہیں حالانکہ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کے کیا معنے سمجھے اور پھر صحابہ ؓ اور صحابیات ؓ نے اس پر کس طرح عمل کیا ؟ اس غرض کے لئے جب احادیث او ر اسلامی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت منہ پردہ میں شامل تھا۔چنانچہ لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رشتہ کے سلسلہ میں ایک صحابیہ ؓ اُمِّ سلیم ؓ کو بھیجا تھا کہ وہ جا کر دیکھ آئے کہ لڑکی کیسی ہے۔( مسند احمد بن حنبل مسند انس بن مالکؓ)اگر اُس وقت چہرہ کو چھپا یا نہ جاتا تھا تو ایک عورت کو بھیج کر لڑکی کا رنگ وغیرہ معلوم کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک نوجوان نے اپنے رشتہ کے لئے ایک جگہ پسند کی اور اُس نے لڑکی کے باپ سے درخواست کی کہ مجھے اور تو سب باتیں پسند ہیں۔میں صرف اتنا چاہتا ہوںکہ آپ مجھے ایک دفعہ لڑکی دیکھنے کی اجازت دےدیں تاکہ میرے دل کو اطمینان ہو جائے۔چونکہ اس وقت پردہ کا حکم نازل ہو چکا تھا۔اس لئے لڑکی کے باپ نے اس کو اپنی ہتک سمجھا۔اور خفا ہو گیا۔وہ نوجوان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ا اور اُ س نے یہ تمام واقعہ بیان کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک پردہ کا حکم نازل ہو چکا ہے مگر یہ غیر عورت کے لئے ہے جس لڑکی سے انسان شادی کرنا چاہے اور لڑکی کے ماں باپ بھی رشتہ دینے پر آمادہ ہو جائیں تو اُسے شادی سے پہلے اگر لڑکا دیکھنا چاہے تو ایک دفعہ دیکھ سکتا ہے۔تم جائو اور لڑکی کے باپ کو میری یہ بات بتا دو۔وہ گیا اور اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام اُسے پہنچا دیا۔مگر معلوم ہوتا ہے اُس کا ایمان ابھی پختہ نہیں تھا۔اُس نے پھر بھی یہی جواب دیا کہ میں ایسا بے غیرت نہیں کہ تمہیں اپنی لڑکی دکھا دوں۔لڑکی اندر بیٹھی ہوئی یہ تمام باتیں سن رہی تھی جب اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر بھی اپنی لڑکی کی شکل دکھانے سے انکار کر دیا۔تو وہ لڑکی فوراً اپنا منہ ننگا کر کے باہر آگئی اور اُس نے کہا جب رسول کریم