تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 473

سب لوگوں کو اکٹھا کیا اور کہا اس شخص نے بہت بڑی بہادری کا کام کیا ہے اور ایک تمغہ جو فرانس میں سب سے زیادہ عزت کا موجب سمجھا جاتا تھا لے کر کہا۔میں بادشاہ کی طرف سے یہ تمغہ اس کی بہادری کے صِلہ میں اس کے سینہ پر لگاتا ہوں۔اس کے بعد اُس نے کمانڈر کو حکم دیا کہ اسے لے جائو اور گو لی مار دو۔اتفاقاً جہاں اُتر نا تھا وہاں سمندر میں سخت طوفان آیا ہوا تھا اور خطر ہ تھا کہ کہیں جہاز غرق نہ ہو جائے۔اُس وقت جہاز کے کمانڈر نے کہا کہ اس وقت مجھے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو یقینی موت کو قبول کرلے۔چنانچہ ایک ملاح آگے آیا اُس نے اسے حکم دیا کہ اس شخص کو جو بادشاہ کا نمائندہ ہے کشتی میں بٹھا کر ساحل فرانس تک پہنچا دو۔طوفان زوروں پر تھا لیکن وہ ملاح کا میابی کے ساتھ ساحلِ فرانس پر پہنچ گیا وہا ں پہنچ کر ملاح نے اپنا پستول نکا ل لیا اور کہا کہ میں نے اپنی جان کو صرف اس لئے خطرہ میں ڈالا تھا کہ تم سے اپنے بھائی کا بدلہ لوں۔اُس نے کہاتم نے حقیقت پر غور نہیں کیا۔تمہارے بھائی نے ایک نیک کام کیا تھا اور ایک بُرا کا م کیا تھا میں نے اس کے اچھے کام کا اچھا بدلہ دیا اور فرانس کا سب سے بڑا تمغہ اُس کے سینہ پر لگایا اور اُس کے بُرے کام کے بدلہ میں اُسے گولی سےمار دینے کا حکم دیا۔تم جانتے ہو کہ میں بادشاہ کے مفاد کی خاطر یہاں آیا ہوں اور اپنے مقصد میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ میں ہر طرح کی احتیاط سے کام لوں اور اس کے رستہ میں حائل ہونے والی کسی چیز کی پرواہ نہ کروں۔اُس نے ایک برا کام کیا تھا اور میری بادشاہ سے وفاداری کا تقاضا یہی تھا کہ میں اُسے ہلاک کر دوں۔اس پر ملاح نے ہتھیار پھینک دیا اور کہا میں سمجھ گیا ہوں کہ میرا بھائی قصور وار تھا اور اپنے جرم کے بدلہ میں موت کی سزا کا ہی مستحق تھا۔تو ایسے جرائم جن کا اثر دور تک پہنچتا ہو۔اُن کی سزا دینا ضروری ہوتا ہے تاکہ دوسرے لوگ غافل نہ ہوں۔لیکن بعض دفعہ عفو بھی ضروری ہوتا ہے۔دیکھو یہاں تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ معاف کر دو۔اور صرف معاف ہی نہ کرو بلکہ فائدہ بھی پہنچائو مگر اسی سورۃ کے شروع میں فرمایا ہے کہ زانی کو سزا دو او ر سز ا دیتے وقت تمہارے دل میں اس کے متعلق رحم کا کوئی جذبہ پیدا نہ ہو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نہ ہر جگہ عفو کی تعلیم دیتا ہے اور نہ ہر مقام پر سز ا دینے کی تلقین کرتا ہے بلکہ وہ موقعہ اور محل کے مطابق سزا اور عفو کے احکام جاری کرتا ہے تاکہ لوگوں کے اندر نہ تو جرائم پر دلیری پیدا ہو اور نہ عفو اور درگذر سے اگر کسی کی اصلاح ممکن ہو تو اس کا موقع ضائع ہو۔