تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 445

حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے آکر بیان کیا کہ فلاں شخص کا بیٹا میرے بھائی کا ہے کیونکہ میرے بھائی نے کہا تھا کہ وہ لڑکا اصل میں میرا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اس کی تعریف نہیں فرمائی یا یہ نہیں فرمایا کہ آئو ہم دوسرے فریق کو قسم دیں بلکہ فرمایا اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاھِرِ الْحَجَرُ (بخاری کتاب المحاربین باب للعاھر حجر)۔یعنی بیٹا تو اسی کو ملے گا جس کی بیوی کہلاتی ہے لیکن جو شخص کہتا ہے میں نے زنا کیا ہے اُس کی سزا سنگساری ہے۔جیسا کہ ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ یہودی کتب میں یہی لکھا تھا۔اس واقعہ پر غور کر کے دیکھ لو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اقرارِ جرم کرنے والے کی تعریف نہیں فرمائی بلکہ اس کی مذمت کی اور فرمایا کہ اس کے اقرار کا اثر خود اُسی پر پڑے گا نہ کہ دوسرے پر۔پس کسی کا اپنے جرم کو ظاہر کرنا یا اس کا اقرار کر لینا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ بڑا نیک ہے کیونکہ شریعت تو گناہ کو ظاہر کرنے سے روکتی ہے۔جب تک قاضی کے سامنے شہادت کے موقعہ پر اس کا بیان کرنا ازروئے شریعت ضروری نہ ہو۔پس جو شخص بلاوجہ اپنی طرف بد کاریاں اور عیوب منسوب کرتا ہے اس کو تو شریعت شاہدِ عادل قرار نہیں دیتی کُجا یہ کہ اس کے اقرار کو کوئی اہمیت دی جائے۔یا اسے اُس کے تقویٰ کا ثبوت سمجھا جائے۔لیکن اگر کوئی شخص اقرار کرنے کی بجائے کسی دوسرے پر اتہام لگائے تو جس پر اتہام لگایا جائےگا اس سے پوچھا بھی نہیں جائے گا اور نہ اُس سے قسم یا مباہلہ کا مطالبہ کرنا جائز ہو گا۔کیونکہ حدود میں قسم یا مباہلہ کرنا شریعت کی ہتک کرنا ہے۔اور یہی پرانے فقہاء کا مذہب ہے۔چنانچہ امام محمد جو امام ابو حنیفہ ؒ کے بعد اُن کے قائم مقام ہوئے۔اور جن کے متعلق علماء کایہ خیال ہے کہ امام یوسف ؒ جو حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کے اوّل شاگر دتھے۔اُن کا قول بھی فقہ میں اتنا قابلِ اعتماد نہیں جتنا امام محمدؒ کا۔وہ اپنی کتاب المبسوط میں لکھتے ہیں۔وَالْحُدُوْدُ لَا تُقَامُ بِالْاَیْمَانِ ( المبسوط جلد ۹ کتاب الحدودص ۵۲) یعنی جن امور میں حد مقرر ہے اُن میں قسموں کے ذریعہ حد قائم نہیں کی جا سکتی۔ایسے امور کا فیصلہ بہر حال گواہوں کی گواہی پر منحصر ہوگا۔پھر اگر کوئی الزام لگانے والا تین گواہ بھی لے آئے تو ان گواہوں کو بھی اور اتہام لگانے والے کو بھی اَسّی اَسّی کوڑوں کی سزا دی جائےگی کیونکہ انہوں نے ایک ایسی بات کہی جس کا اُن کے پاس کوئی شرعی ثبوت نہیں تھا۔تاریخ میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ پر جو بصرہ کے گورنر تھے بدکاری کا الزام لگا یا گیا۔حضرت عمر ؓ نے گواہی لی تو ایک شخص نے گواہی میں خفیف سی کمزوری دکھائی اور کہا کہ میں نے زنا ایسی صورت میں نہیں دیکھا کہ مرد کا آلہ تناسل عورت کی شرم گاہ کے اندر داخل ہو۔اس پر دوسرے تینوں گواہوں کو قذف کی حد لگائی گئی۔(تاریخ طبری ذکر خبر عزل مغیرۃ)اور کسی نے نہ کہا کہ تین گواہ تو موجو د ہیں۔