تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 441
اشارہ کیا گیا ہے کہ گو مرد بھی اس حکم میں شامل ہیں مگر عورتوں کی عزت کو بچا نا سو سائٹی کا پہلا فرض ہے۔کیونکہ جھوٹے الزاموں سے عورت کی عزت کو زیادہ نقصان پہنچتا ہے اور مرد کی عزت کو کم۔اگر چار گواہ نہ ہوں تو خواہ وہ تین ہوں اُن پر حد لگے گی۔اور اگر چار گواہ تو ہوں لیکن فاسق ہوں۔تب بھی بعض فقہا ء کے نزدیک گواہوں پر حد لگے گی۔(فتح البیان تفسیر زیر آیت ھٰذا)لیکن میرے نزدیک حد نہیں لگے گی کیونکہ فاسق قرار دینے کا فیصلہ قاضی کے اختیار میں تھا اور گواہ کو اس کا کوئی علم نہیں ہو سکتا تھا کہ مجھے فاسق قرار دیا جائےگا یا نہیں۔ہاں قاضی کو تعزیر کا اختیار ہوگا یعنی حالات کے مطابق سزا دینے کا تاکہ آئندہ احتیاط رہے اور جس پر الزام لگا یا گیا ہو اُس کی برأت کی جائےگی۔قرآن کریم کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ قاذف کے علاوہ چار گواہ ہوںگے یعنی کل پانچ نہ کہ قاذف سمیت چار۔بعض لوگوں نے اس بارہ میں اختلاف کیا ہے کہ شہادت ایک مقام پر ہوگی یا مختلف مقامات پر(شرح فتح القدیر زیر آیت ھٰذا)۔لیکن میرے نزدیک یہ بحث فضول ہے۔قاضی جس طرح چاہے گواہی لے لے لیکن یہ ضروری ہے کہ گو مقامِ شہادت مختلف ہوں مگر جس واقعہ کی شہادت ہو وہ ایک ہی ہوتا کہ وہ احتیاط جو غلطی سے بچنے کے لئے کی گئی تھی ضائع نہ ہو جائے اور منصوبہ بازی کا ازالہ ہو جائے۔یہ حکم اس زمانہ میں خوب یاد رکھنے کے قابل ہے کیونکہ جس قدر بے حرمتی اور ہتک اس زمانہ میں اس کی ہو رہی ہے اور کسی حکم کی نہیں ہو رہی۔بلادلیل اور بلا وجہ اور بلا کسی ثبوت کے محض کھیل اور تماشہ کے طورپر دوسروں پر الزام لگائے جاتے ہیں اور قطعاً اس بات کی پر واہ نہیں کی جاتی کہ یہ کتنا بڑا گناہ ہے۔اور خدا تعالیٰ نے اس کی کس قدر سزا مقرر کی ہوئی ہے۔ایسا الزام لگانے والے کے لئے خدا تعالیٰ نے اَسّی کوڑے سزا رکھی ہے جو زنا کی سزا کے قریب قریب ہے۔یعنی اس کے لئے سو کوڑے کی سزا ہے۔لیکن الزام لگانے والے کے لئے اَسّی کوڑے کھا لینے کے بعد بھی یہ سزا ہے کہ کبھی اس کی گواہی قبول نہ کرو۔پھر اسی پر بس نہیں بلکہ سزا اور زیادہ آگے بڑھتی ہے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا انسان خدا تعالیٰ کے حضور فاسق ہے۔اور جسے خدا تعالیٰ فاسق قرار دےدے اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ مومن اور متقی ہے یونہی خدا نے اس کا نام فاسق رکھ دیا ہے بلکہ اس میں یہ اشارہ مخفی ہے کہ الزام لگانے والا خود اُسی بدی میں مبتلا ہوجائےگا۔کیونکہ خدا تعالیٰ بلاوجہ کسی کا نام نہیں رکھتا بلکہ جب بھی کسی کا کوئی نام رکھتا ہے اُس کے مطابق اس میں صفات بھی پیدا کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ جس کو دلیر کہتا ہے وہ دلیر ہو کر رہتا ہے۔اور خدا تعالیٰ جس کو متقی کہتا ہے وہ متقی ہو کر رہتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ جس کو فاسق کہتا ہے۔و ہ فاسق بن کر رہتا ہے اور دنیا دیکھتی ہے کہ جو الزام اس نے دوسرے پر لگایا تھا اس کا وہ خود مصداق بن گیا ہے۔