تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 365
بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ۔یعنی کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس آدمی کے ساتھ جنوں کا تعلق ہے ؟ ان کی یہ بات بھی بالکل غلط ہے۔اصل بات صرف یہ ہے کہ وہ اُ ن کے پاس ایک ایسی تعلیم لے کر آیا ہے جس پر عمل کرنا اُن کو دو بھر معلوم ہوتا ہے اور وہ اُسے ناپسند یدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔کیونکہ اس تعلیم کے غالب آنے سے اُن کی چودھرئیت جاتی ہے اور اُن کی سرداریاں ختم ہوتی ہیں اور وہ یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ اُن کی چوہدریت ختم ہو۔گویا مخالفین نے جب دیکھا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا تو نہیں کہہ سکتے تو انہوں نے دوسرا پہلو بدلا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ جھوٹا تو نہیںہاں اس کا جنّات کے ساتھ تعلق ہے اور وہ اسے اس قسم کی باتیں سکھاتے رہتے ہیں۔عیسائی لوگ اعتراض کیاکرتے ہیں کہ یہ کیا توہّم والی باتیں ہیں لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ تو ہّم تو کفار کا ہے اور اُن کو عقلمند کون کہتا ہے۔پھر خود انجیل میں حضرت مسیح ؑ کے متعلق اُن کے دشمنوں کا قول درج ہے کہ ’’ اس میں بدرُوح ہے اور وہ دیوانہ ہے۔‘‘ (یوحنا باب ۱۰ آیت ۲۰) اگر حضرت مسیح ؑ کے زمانہ میں بھی یہی بات کہی گئی اور اُس پر انہیں تعجب نہیں ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اگر یہی بات کہی گئی تو اس پر تعجب کیوں۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ میں اُن کے اس اعتراض کا جواب دیا ہے اوراَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ میں اُن کے انکار کی وجہ بتائی ہے۔اُن کے اعتراض کا تو یہ جواب دیا ہے کہ کیا کبھی جنّات سے تعلق رکھنے والوں نے بھی لوگوں کے سامنے ایسی تعلیم پیش کی ہے جو اُن کی تمام اخلاقی روحانی اقتصادی اور سیاسی مشکلات کا حل ہو اور جس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں اُن کو اعلیٰ سے اعلیٰ ترقیات حاصل ہوں۔اگر دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا تو محمدؐر سول اللہ ایسی تعلیم کو پیش کرکے جنات سے تعلق رکھنے والا کس طرح ہوااوراَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اُ ن کے انکار کی یہ وجہ نہیں کہ محمدؐ رسول اللہ میں کوئی عیب پاتے ہیں بلکہ انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ حق پر عمل کرنا اُن کو ناپسند ہے۔اگر وہ محمد ؐرسول اللہ کو قبول کر لیں تو انہیں لوگوں سے ماریں کھانی پڑتی ہیں۔انہیں گندی سے گندی گالیاں سُننی پڑتی ہیں۔انہیں مالی اور جانی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں۔اُنہیں اپنا وطن چھوڑنا پڑتا ہے۔انہیں اپنی سرداریوں کو ترک کرنا پڑتا ہےاور یہ چیز ایسی ہے جسے وہ پسند نہیں کرتے۔پس وہ مخالفت کے لئے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں۔کبھی لوگوں سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ جھوٹا ہےاور کبھی یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس کا جنّات کے ساتھ تعلق ہے اور چاہتے ہیں کہ سچائی دنیا میں ظاہر نہ ہو۔حالانکہ اگر حق کو لوگوں کی خواہشات کا تابع کر دیا جائے تو آسمان اور زمین میں فساد پیدا ہو جائے یعنی تعلق باللہ بھی نہ رہے اور تعلق بالعباد کے متعلق بھی لوگوںکو کہیں سے راہنمائی میسر نہ آئے اور اس طرح ہر طرف ظلمت اور تاریکی ہی