تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 364

ایک دفعہ کفار یہ مشورہ کرنے کے لئے جمع ہوئے کہ حج کے موقعہ پر باہر سے آنے والے لوگوں کو ہم اس شخص کے متعلق کیا کہیں تو ایک شخص نے کہہ دیا کہ اگر ہم سے کسی نے پوچھا تو ہم فوراً کہہ دیں گے کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے اس پر ایک شدید مخالف نضر بن الحارث جو ش سے کھڑا ہو گیا اور اُس نے کہا تم یہ کیا کہہ رہے ہو۔محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے درمیان پیدا ہوا اور اُس نے تمہارے سامنے اپنے شباب کی منزلیں طے کیں۔تم جانتے ہو کہ اُس کے اخلاق کتنے پاکیزہ تھے وہ تم سب سے زیادہ راستباز انسان تھا۔امانت اور دیانت میں اس کا کوئی ہم پلہ نہیں تھا اور وہ اسی نیک نامی کی حالت میں اپنی زندگی کے دن گذارتا چلا گیا۔مگر اب جبکہ اُس کی کنپٹیوں میں سفید بال آرہے ہیں اور وہ شباب سے گذر کر کہولت کی عمر کو پہنچ چکا ہے اور اُس نے اپنی تعلیم تمہارے سامنے پیش کی ہے تم یہ کہنے لگے ہو کہ وہ جھوٹا ہے۔خدا کی قسم وہ ہر گز جھوٹا نہیں اگر تم نے احمقانہ بات کہی تو کوئی شخص اس کو تسلیم نہیں کرے گا (کتاب الشفاءللقاضی ابو فضل عیّاض بن موسیٰ الباب الثانی الفصل العشرون عدلہ و امانتہ صلی اللہ علیہ وسلم) ابوجہل محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا شدید دشمن تھا۔مگر اُس نے بھی ایک موقعہ پر کہہ دیا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم تجھ کو تو جھوٹا نہیں کہتے۔ہم تو اُس تعلیم کی تکذیب کرتے ہیں جسے تو پیش کر رہا ہے (ترمذی کتاب التفسیر سورة الانعام) گویا ابو جہل جیسا معاند اور سیاہ باطن انسان کا دل بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا کہنے کے لئے تیار نہیں تھا۔گویا جھوٹا کہتے ہوئے اُس کی ضمیر بھی اُسے ملامت کرتی تھی اور اُس کا دل بھی دھڑکنے لگتا تھا کہ میں کیسی قبیح حرکت کر رہا ہوں مگر اُس نے بہانہ یہ بنایا کہ میں تو محمدرسول اللہ کی تعلیم کو جھٹلارہاہوں۔آپ کو تو جھوٹا نہیں کہہ رہا۔یہ ’’ عذر گناہ بدتر از گناہ ‘‘ والی بات ہے مگر بہر حال اس سے اُس اثر کا اندازہ لگا یا جا سکتا ہے جو شدید ترین معاندین کے دلوں پر بھی آپ کی صداقت اور راستبازی کی وجہ سے قائم ہو چکا تھا۔امیہ ابن خلف بھی آپ کا ایک شدید معاند تھا مگر ایک موقعہ پر اُس کی زبان سے بھی یہ الفاظ نکل گئے کہ خدا کی قسم جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بات کرتا ہے تو سچی ہی کرتا ہے جھوٹ نہیں بولتا ( بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام) کہتے ہیں ’’ جادو وہ جو سر پہ چڑھ کے بولے ‘‘۔محمد ؐ کا یہ کتنا بڑا جادو ہے کہ آپ ؐ کے اپنے دشمنوں سے بھی اپنی صداقت اور راستبازی تسلیم کروالی۔اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی پاک اور بے عیب زندگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ کیا انہوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا ؟ یعنی انہیں تو چاہیے تھا کہ آپ کو فوراً پہچان لیتے اور آپ کی تکذیب کا راستہ اختیار نہ کرتے مگر دیکھتے ہوئے اُن کی آنکھوں پر پردے پڑ گئے اور واقف ہوتے ہوئے ناواقفوں کی سی باتیں کرنے لگے۔پھر فرماتا ہے اَمْ يَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ