تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 356

چل رہے ہو اس لئے ہم تمہیں فلاں انعام دیتے ہیں۔اس لئے کہ بالارادہ کام نہیں کر رہا ہوتا۔لیکن اگر ایک چھوٹا بچہ بھی سکول کی دوڑ میں آگے نکل جاتا ہے تو اُسے انعام ملتا ہے۔اس لئے کہ چھوٹے بچے نے عقل اور قربانی سے کام لیا۔وہ مجبور نہیں تھا کہ ضرور محنت کرتا وہ سستی کر سکتا تھا وہ غفلت کر سکتا تھا۔لیکن اُس نے دوسروں سے اچھا نمونہ دکھایا۔وہ صبح کو اُٹھااُس نے دوڑنے کی مشق کی اپنی صحت کے معیار کو اونچا کیا اور دوسروں سے آگے نکل گیا۔پس اُس نے جو کچھ کیا اپنی مرضی سے کیا۔اپنی خواہش اور اپنے ارادہ کے ماتحت کیا اس لئے اُسے انعام مل گیا پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ہم جبر کر سکتے تھے لیکن ہم نے کیوں جبر نہیں کیا۔کیوں ہم نے دنیا کے فلسفیو ں اور اقتصادیات کے ماہروں اور سائینسدانوں اور مقّننوں کو زندہ رکھا اس لئے کہ لِيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ ہم دنیا کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ کون خدا کو خوش کرتا ہے اور کو ن دنیا کے پیچھے چلتا ہے لیکن فرماتا ہے اب ہم تم کو یہ بتاتے ہیں کہ تمہارا دنیا سے ایک اور مقابلہ ہو گیا ہے۔دنیا کا فلسفی اور اقتصادی ماہر بھی کچھ سکیمیں پیش کرےگا اور قرآن کریم بھی کچھ سکیمیں پیش کرے گا اور وہ تمہارے لئے بڑی آزمائش کا وقت ہوگا کیونکہ ایک طرف خدا کی آواز ہوگی اور دوسری طرف دنیا کے فلسفیوں اور سائینسدانوں کی آواز ہوگی اُس وقت ایک صورت تو یہ ہو سکتی ہے کہ تم ہتھیار ڈال دو اور کہو کہ ہم ہارے اور تم جیتے اور دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ تم ضد کرکے بیٹھ رہو اور عملی رنگ میں تو کچھ نہ کرو مگر زبان سے یہ کہتے جائو کہ قرآن کریم کی سکیم اچھی ہے۔اگر تم ایسا کرو گے اور زبا ن سے تو یہ کہو گے کہ قرآ ن کریم کی سکیم اچھی ہے مگر اُسے اچھا ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرو گے تو دنیا تمہاری بات نہیں مانے گی کیونکہ وہ تمہارے عمل کو دیکھے گی۔جب تم خود قرآنی احکام پر عمل نہیں کروگے۔جب تم خود اُس کی تعلیموں کے مطابق نہیں چلو گے تو محض زبان سے اُسے اچھا کہہ کر تم اُسے اور بھی بد نام کرو گے۔اس لئے ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہفَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ اگر تم سچے مومن ہو۔اگر تمہارے دل میں حقیقی ایمان موجود ہے۔اگر تم واقعہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتے ہو تو جو بہتر سے بہتر احکام اور بہتر سے بہتر تعلیمیں ہم نے تمہارے سامنے پیش کی ہیں تم دوڑ کر اُن کو اختیار کرو اور اپنی عملی زندگی میں اُن کو شامل کرو۔اگر تم ایسا کرو گے تو چونکہ اعلیٰ درجہ کی سکیمیں تمہارے پاس ہوںگی اور اُن سکیموں پر تم عمل بھی کررہے ہو گے۔اس لئے دنیا مجبور ہوگی کہ وہ تمہاری طرف آئے اور اپنی ناقص سکیموں اور ناقص قانونوں کو ترک کر دے۔گویا دنیا پر اسلام کی صداقت اور اُ س کی عظمت صرف اسی طریق سے واضح ہو سکتی ہے کہ تم اپنی ذات میں قرآنی احکام پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔پھر فرماتا ہے کہ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ۔جب تم اس دنیا میں خدا تعالیٰ کے احکام کی برتری اور اُن کی عظمت کو روشن کردو گے تو چونکہ مرکر تم نے ہماری طرف ہی