تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 352
غرباء کا انہیں کبھی خیال بھی نہ آتا۔غرض جس قدر احکام اسلام میں پائے جاتے ہیں ان سب میں حکمتیں ہیں اور یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ وَلَدَيْنَا كِتَابٌ يَنْطِقُ بِالْحَقِّ ہمارا کوئی حکم ایسا نہیں جس میں کوئی حکمت اور فلسفہ نہ ہو اور جس کا کسی نہ کسی رنگ میں بنی نوع انسان کو کوئی نہ کوئی فائدہ نہ پہنچتا ہو۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ لوگ تو قرآنی احکام پر عمل کریں اور انہیں نقصان ہو۔ان احکام پر عمل کرنے کے نتیجہ میں ہمیشہ فائدہ ہی فائدہ ان کو ہوگا اور برکت ہی برکت ان کو ملے گی۔دوسرے معنوں کے لحاظ سے اس آیت کا یہ مفہوم ہے کہ یہ کتاب ایک کامل شریعت کی حامل ہے اور اس کی کوئی تعلیم ایسی نہیں جو مرورِ زمانہ سے باطل ہو سکے۔بلکہ ہر زمانہ میں اس کے پیش کر دہ نظریات دنیا پر غالب رہیں گے اور کبھی ایسا وقت نہیں آئےگا کہ دنیا کو اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس ہو۔چنانچہ لغتِ عرب میں حق کے ایک معنے اَلْمَوْجُوْدُ الثَّا بِتُ کے بھی لکھے ہیں یعنی ایسی چیز جو مضبوط اور قائم رہنے والی ہو ( اقرب)۔اسی طرح اس کے ایک معنے اَلْاَمْرُ الْمَقْضِیُّ کے بھی ہیں یعنی قطعی اور فیصل شدہ امر۔اور فیصل شدہ بات وہی ہوتی ہے جس میں کوئی تبدیلی نا ممکن ہو اور قائم بھی اسی چیز کو رکھا جاتا ہے جو اپنی ذات میں مکمل ہو۔پس وَلَدَيْنَا كِتَابٌ يَنْطِقُ بِالْحَقِّ میں قرآ ن کریم کی اکملیت کا دعویٰ کیا گیا ہے اور بتا یا گیا ہے کہ یہ دنیا کے لئے آخری اور کامل ہدایت نامہ ہے۔جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر اس دعویٰ کو ان الفاظ میں بیا ن کیا گیا ہے کہ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ( المائدۃ:۴) یعنی آج میں نے تمہارا دین تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت کا تم پر اتمام کر دیا ہے اور تمہارے لئے اسلام کو ایک دین کے طور پر پسند کر لیا ہے۔یہ آیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حجۃ الوداع کے موقعہ پر نازل ہوئی تھی۔یہ موقع وہ تھا جب مکہ فتح ہو چکا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کے لئے حج اور عمرہ کھل چکا تھا (بخاری کتاب المغازی باب حجۃ الوداع)۔آپ نے جو آخری حج فرمایا اور جس کے اسّی دن بعد آپ وفات پا گئے اسے حجۃ الوداع کہتے ہیں۔اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی ایسی باتیں کہیں کہ صحابہ ؓ کہتے ہیںہم حیرا ن ہو تے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ باتیں کیوں فرما رہے ہیں۔مگر جب آپ حجۃ الوداع کے صرف اسّی دن کے بعد وفات پاگئے تب ہمیں معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو وفات کی خبر مل چکی تھی اور آپ مسلمانوں کو اُس وقت آخری نصیحتیں کر رہے تھے۔اُس وقت آپ نے فرمایا۔اے مسلمانو! میں تمہیں نصیحت کرتا ہو ں کہ تم اپنی عورتو ں سے اچھا سلوک کیا کرو۔اے مسلمانو ! میں