تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 318
چنانچہ جس طرح نوح ؑکو اپنے دشمنوں کی اذیت کے نتیجہ میں اپنا وطن چھوڑ نا پڑا اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مکہ والوں کی متواتر تکالیف اور ایذاء رسانیوں کے نتیجہ میں اپنا وطن چھوڑ نا پڑا۔جس طرح نوح ؑ کی کشتی جُودی پہاڑ پر جا کر ٹھہرگئی تھی جہاں نوح ؑ کو پناہ ملی اور خدا تعالیٰ نے اُس پر اپنے انعامات کی بارش نازل کی اسی طرح مدینہ بھی وہ جودی تھا جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ کی کشتی لنگر انداز ہوئی اور جس طرح زیتون کی پتی کے ذریعے نوح کو اس کی جماعت کی آئندہ ترقی اور اس کی ایمانی ترقی کی بشارت دی گئی اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے وہ انصار عطا فرمائے جو عروۃ الوثقٰی کو مضبوطی سے پکڑنے والے تھے اور جنہوں نے اپنی ایمانی قوت کے ایسے شاندار مظاہرے کئے جن کو دیکھ کر انسان کا دل لذّت اور سرور سے بھر جاتا ہے۔مدینہ آنے کے بعد جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر ملی کہ شام سے کفار کا ایک تجارتی قافلہ ابو سفیان کی سرکردگی میں آرہا ہے اور وہ راستہ میں تمام عرب قبائل کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا تا آرہا ہے۔تو آپ نے ضروری سمجھا کہ اُس کی شرارتوں کا سدِّباب کیا جائے۔چنانچہ آپ صحابہ ؓ کی ایک جماعت کو اپنے ساتھ لے کر مدینہ سے چل پڑے۔چونکہ یہ ایک چھوٹا سا قافلہ تھا اس لئے مسلمانوں نے اس کو کوئی زیادہ اہمیت نہ دی اور انہوں نے سمجھا کہ تھوڑے سے آدمی بھی اگر چلے گئے تو اس قافلہ کا آسانی کے ساتھ مقابلہ کیا جا سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دےدی گئی کہ اصل مقابلہ اس تجارتی قافلہ سے نہیں بلکہ کفار کے ایک بڑے لشکر سے مقدر ہے جو مکہ سے اس قافلہ کی مدد کے لئے آرہا ہے۔مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس راز کے انکشاف کی ممانعت فرما دی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ صحابہ ؓ کا امتحان لے اور اُن کے اعلیٰ درجہ کے ایمان اور اُن کی قربانیوں کے اَن مٹ نقوش کو صفحۂ عالم پر ثبت کر دے اور اُن کا اخلاص لوگوں کے لئے ایک زندہ نمونہ کا کام دے جو آنے والی نسلوں کی مُردہ عروق میں بھی زندگی کا خون دوڑا دے۔جب مدینہ سے کئی منزل دور آپ پہنچ گئے تو آپ نے صحابہ ؓ کو جمع کیا اور انہیں بتا یا کہ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ تمہارا کفار مکّہ کے ایک بڑے لشکر سے مقابلہ ہو۔اب بتائو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔مہاجرین میں سے ایک ایک صحابی اٹھتا اور کہتا یا رسول اللہ مشورہ کا کیا سوال ہے۔آگے بڑھئے اور دشمن کا مقابلہ کیجئیے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔اور اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔مگر جب بھی کوئی مہاجر بیٹھ جاتا۔آپ پھرفرماتے اے لوگو مجھے مشورہ دو۔انصار جوایک بڑی سمجھ دار اور قربانی کرنے والی قوم تھی اُ س کے افراد ابھی خاموش تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے یہ کہا کہ ہم لڑنے کے لئے تیار ہیں تو چونکہ کفار مکّہ ان مہاجرین کے رشتہ دار ہیں۔اُن میں سے کوئی ان کا باپ ہے کوئی بیٹا ہے کوئی بھائی ہے۔کوئی ماموں ہے کوئی چچا ہے۔اس لئے ہمارا