تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 309

پھر پو لوس کو وہ رسول قرار دیتے ہیں اور عہد نامہ جدید بتاتا ہے کہ اُس کو بھی دیوانہ قرار دیا گیا۔چنانچہ لکھا ہے۔ـ’’ جب وہ اس طرح جو اب دہی کر رہا تھا تو فیتس نے بڑی آواز سے کہا۔اے پولوس ! تو دیوانہ ہے۔بہت علم نے تجھے دیوانہ کر دیا ہے۔‘‘ (اعمال باب ۲۶ آیت ۲۴) اب اگر لوگوںکے دیوانہ اور مجنون کہنے کی وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی دماغی نقص تسلیم کرنا جائز ہے تو عیسائی کیوں اپنے مسیح کو بھی مجنون نہیں کہتے اور کیوں پولوس کوبھی دیوانہ قرار نہیں دیتے۔اور اگر مسیح لوگوں کے مجنون کہنے کی وجہ سے واقعہ میں کوئی دماغی نقص اپنے اندر رکھتا تھا تو وہ دنیا کا نجات دہندہ کس طرح ہوگیا۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا اگر انبیاء کو مجنون کہتی ہے تو صرف اس لئے کہ وہ ایسی تعلیم پیش کرتے ہیںجو زمانہ کی رَو کے بالکل خلاف ہوتی ہے اور جس کو انسانی عقل نہیں بنا سکتی۔علماء اُس کو سنتے ہیں تو مخالفت میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔امراء سنتے ہیں تو طیش میں آجاتے ہیں۔عوام سنتے ہیں تو وہ بھڑک اُٹھتے ہیں۔مگر چونکہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مؤید ہوتے ہیں اور اُن کی پُشت پر اللہ تعالیٰ کھڑا ہوتا ہے۔وہ نہ مخالفت کی پروا ہ کرتے ہیں اور نہ دشمنوں کی ایذاء رسانیوں سے گھبراتے ہیں اور برابر اپنے کام میں مشغول رہتے ہیں۔لوگ حیرت اور استعجاب سے اُن کو دیکھتے ہیں۔مگر بجائے یہ سمجھنے کے کہ زمین و آسمان کا خدا اُن کی پشت پر ہے وہ یہ خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ یہ دیوانہ ہے۔یعنی جس طرح دیوانہ اپنا کام کئے جاتا ہے اور لوگوں کی ہنسی یا مخالفت کی کوئی پرواہ نہیں کرتا اسی طرح وہ بھی کسی مصیبت کی پرواہ نہیں کرتے اور خدا تعالیٰ کی توحید کو پھیلاتے چلے جاتے ہیں۔جب مکہ کے لوگوں نے دیکھا کہ ہم نے محمدرسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو توحید کے وعظ سے باز رکھنے کے لئے ہر قسم کی تدابیر اختیار کیں مگر یہ پھر بھی اپنے کام سے نہیں رکا اور اُس نے بتوں کو بڑا بھلا کہنا نہیں چھوڑا تو انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ شخص تو مجنون ہے اللہ تعالیٰ اُن کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ نٓ وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوْنَ۔مَٓا اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ (القلم:۲،۳ )یعنی ہم دوات اور قلم کو اور اُن تمام تحریروں کو جو دوات اور قلم سے لکھی گئی ہیں اس بات کی شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ تُو اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہے یعنی قلم اور دوات سے جس قدر علوم احاطۂ تحریر میں آئے ہیں یا آئندہ زمانوں میں آئیں گے اگر ان سب کو جمع کر لیا جائے اور پھر اُن کا تیرے علوم کے ساتھ مقابلہ کیا جائے تو دنیا کو معلوم ہوگا کہ تُو ان سے بہت زیادہ علوم پھیلارہا ہے۔پس اگر اور لوگ ادنیٰ اور معمولی علوم پھیلانے کی وجہ سے اعلیٰ درجہ کے موجد اور سائینس دان اور فلاسفر اور فقیہہ اور عالم کہلا سکتے ہیں تو تُو اُن سے ہزاروں گُنا زیادہ علوم پھیلانے کی وجہ سے مجنون کس طرح ہو گیا۔