تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 289

نہیں۔حضرت عمر ؓ نے کہا پھر میں کیا کروں۔بہن نے کہا وہ سامنے پانی ہے نہا کر آؤ۔تب وہ چیز تمہارے ہاتھ میں دی جاسکتی ہے۔حضرت عمرؓ نہائے اور واپس آئے۔بہن نے قرآن کریم کے اوراق جو وہ سن رہے تھے آپ کے ہاتھ میں دئیے چونکہ حضرت عمرؓ کے اندر ایک تغیر پیدا ہو چکا تھا اس لئے قرآنی آیات پڑھتے ہی اُن کے اندر رقت پیدا ہوئی اور جب وہ آیات ختم کر چکے تو بے اختیار انہوں نے کہا کہ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّااللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ یہ الفاظ سن کروہ صحابی ؓ بھی باہر نکل آئے جو حضرت عمرؓ سے ڈر کر چھپ گئے تھے۔پھر حضرت عمرؓ نے دریافت کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آج کل کہاں مقیم ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن دنوں مخالفت کی وجہ سے گھر بدلتے رہتے تھے۔انہوں نے بتا یا کہ آج کل آپ دارِ ارقم میں تشریف رکھتے ہیں۔حضرت عمرؓ فوراً اسی حالت میں جب کہ ننگی تلوار انہوں نے لٹکائی ہوئی تھی اُس گھر کی طرف چل پڑے بہن کے دل میں شبہ پیدا ہوا کہ شاید وہ بری نیت سے نہ جا رہے ہوں۔انہوں نے آگے بڑھ کر کہا خدا کی قسم ! میں تمہیں اُس وقت تک نہیں جانے دوں گی جب تک تم مجھے اطمینان نہ دلادو کہ تم کوئی شرارت نہیں کرو گے۔حضرت عمرؓ نے کہا میں پکا وعدہ کرتاہوں کہ میںکوئی فساد نہیں کروںگا۔حضرت عمرؓ وہاں پہنچے اور دستک دی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ اندر بیٹھے ہوئے تھے دینی درس ہو رہاتھا۔کسی صحابیؓ نے پوچھا کون؟ حضرت عمرؓ نے جواب دیا۔عمرؓ! صحابہؓ نے کہا یا رسول اللہ ! دروازہ نہیں کھولنا چاہیے۔ایسا نہ ہو کہ کوئی فساد کرے۔حضرت حمزہؓ نئے نئے ایمان لائے ہوئے تھے وہ سپاہیانہ طرز کے آدمی تھے۔انہوں نے کہا دروازہ کھول دو۔میں دیکھوں گا وہ کیاکرتا ہے۔چنانچہ ایک شخص نے دروازہ کھول دیا۔حضرت عمرؓ آگے بڑھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عمرؓ! تم کب تک میری مخالفت میں بڑھتے چلے جاؤ گئے۔حضرت عمرؓ نے کہا یا رسول اللہ ! میں مخالفت کے لئے نہیں آیا میں تو آپ کا غلام بننے کے لئے آیا ہوں۔وہ عمرؓ جو ایک گھنٹہ پہلے اسلام کے شدید دشمن تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنے کے لئے گھر سے نکلے تھے ایک آن میں اعلیٰ درجہ کے مومن بن گئے۔حضرت عمرؓ مکہ کے رئیسوں میں سے نہیں تھے لیکن بہادری کی وجہ سے نوجوانوں پر آپ کا اچھا اثر تھا۔جب آپ مسلمان ہوئے تو صحابہؓ نے جوش میں آکر نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے۔اس کے بعد نماز کا وقت آیا۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنی چاہی تو وہی عمرؓ جو دو گھنٹے قبل گھر سے اس لئے نکلا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارے۔اُس نے دوبارہ تلوار نکال لی اور کہا۔یارسول اللہ ! خدا تعالیٰ کا رسول اور اُس کے ماننے والے تو چھپ کر نمازیں پڑھیں اور مشرکین مکہ باہر دندناتے پھریں یہ کس طرح ہوسکتا ہے۔میں دیکھوں گا کہ ہمیں خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنے سے کون روکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جذبہ تو