تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 281

دوسرا درجہ نماز کا یہ ہے کہ پانچوں نمازیں وقت پر ادا کی جائیں جب کوئی مسلمان پانچوں نمازیں وقت پر ادا کرتا ہے تو وہ ایمان کی دوسری سیڑھی پر قدم رکھ لیتا ہے۔پھر تیسرا درجہ یہ ہے کہ نماز باجماعت ادا کی جائے۔باجماعت نماز کی ادائیگی سے انسان ایمان کی تیسری سیڑھی پر چڑھ جاتا ہے۔پھر چوتھا درجہ یہ ہے کہ انسان نماز کے مطالب کو سمجھ کر ادا کرے۔جو شخص ترجمہ نہیںجانتا وہ ترجمہ سیکھ کر نماز پڑھے اور جو ترجمہ جانتا ہو وہ ٹھہر ٹھہر کر نماز کو ادا کرے۔یہاں تک کہ وہ سمجھ لے کہ میں نے نماز کو کما حقہ‘ ادا کیا ہے۔پھر پانچواں درجہ نماز کا یہ ہے کہ انسان نمازمیں پوری محویّت حاصل کرے اور جس طرح غوطہ زن سمندر میں غوطہ لگاتے ہیں۔اسی طرح وہ بھی نماز کے اندر غوطہ مارے یہاں تک کہ وہ دو میں سے ایک مقام حاصل کر لے۔یا تو یہ کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہو اور یا یہ کہ وہ اس یقین کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو کہ خدا تعالیٰ اُسے دیکھ رہا ہے۔اس مؤخر الذکر حالت کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی اندھا بچہ اپنی ماں کی گود میں بیٹھا ہو۔اپنی ماں کی گود میں بیٹھے ہوئے اُس بیٹے کو بھی تسلّی ہوتی ہے جو بینا ہو اور اپنی ماں کو دیکھ رہا ہو مگر ماں کی گود میں بیٹھے ہوئے اُس بیٹے کو بھی تسلی ہوتی ہے جو نابینا ہو۔اس خیال سے کہ گو وہ اپنی نابینائی کی وجہ سے ماں کو نہیں دیکھ رہا مگر اُس کی ماں اُسے دیکھ رہی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نماز پڑھتے وقت بندے کو ان دو میں سے ایک مقام ضرور حاصل ہونا چاہیے۔یا تو یہ کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہو اور یا یہ کہ اس کا دل اس یقین سے لبریز ہو کہ خدا تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے (بخاری کتاب الایمان باب سؤال جبریل النبیؐ عن الایمان۔۔)۔یہ ایمان کا پانچواں مقام ہے اوراس مقام پر بندے کے فرائض پورے ہو جاتے ہیں۔مگر جس بامِ رفعت پر اُسے پہنچنا چاہیے اس پر ابھی نہیں پہنچتا۔اس کے بعد چھٹا درجہ ایمان کا یہ ہے کہ نوافل پڑھے جائیں۔یہ نوافل پڑھنے والا گویا خدا تعالیٰ کے حضور یہ ظاہر کرتا ہے کہ میں نے فرائض کو تو ادا کر دیا ہے مگر ان فرائض سے میری تسلی نہیں ہوئی اور وہ کہتا ہے۔اے خدا میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان فرائض کے اوقات کے علاوہ بھی تیرے دربار میں حاضر ہوا کروں جیسے کئی لوگ جب کسی بزرگ کی ملاقات کے لئے جاتے ہیں تو وہ مقررہ وقت گذر جانے پر کہتے ہیں کہ دو منٹ اور دیجئیے۔اور وہ ان مزید دو منٹوں میں لذّت محسوس کرتے ہیں۔اسی طرح ایک مومن جب فرائض کی ادائیگی کے بعد نوافل پڑھتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ سے کہتا ہے کہ اب میں اپنی طرف سے کچھ مزید وقت حاضر ہونا چاہتا ہوں۔ساتواں درجہ ایمان کا یہ ہے کہ انسان نہ صرف پانچوں نمازیں اور نوافل ادا کرے بلکہ رات کو بھی تہجد کی نماز پڑھے۔یہ وہ سات درجات ہیں جن سے نماز مکمل ہوتی ہے۔اور ان درجات کو حاصل کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ خدا تعالیٰ رات کے وقت عرش سے اترتا ہے اور اُس کے فرشتے پکارتے ہیں