تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 202

پہلے پہنچ گئے۔پس اُن کا وقت سے پہلے مکّہ آجانا بتا تا ہے کہ وقت سے پہلے اُن کو کہلا بھیجا گیا تھا کہ مکّہ والے مسلمان ہوگئے ہیں اور عین اُن دنوں میں جبکہ وہ سکیم کے ماتحت آسکتے تھے مکہ والوں نے یہ اوپر کے الفاظ کسی خبیث کے منہ سے بلند آواز سے کہلوا دئیے۔پھر اگر اُن حدیثوں کو نظر انداز کر دیا جائے جو صراحتًا قرآن کریم کے خلاف ہیں تو یہ سورۃ ہی اس واقعہ کی تردید کرتی ہے کیونکہ ان آیتوں سے پہلے جن میں کہا گیا ہے شیطان نے شرکیہ مضمون ملاد یا تھا یہ ذکر ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کو دیکھا ہے بلکہ یہ بھی کہ دو دفعہ دیکھا ہے چنانچہ پہلے فرمایا وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی (النجم:۱۴)یعنی اُس نے یقیناً اپنے خدا کو ایک دفعہ اور دیکھا ہے۔اور پھر فرمایا لَقَدْ رَأی مِنْ اٰیَتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی (النجم:۱۹)محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کے بڑے بڑے نشانات دیکھے ہیں اُس کے مقابلہ میں کافروں کو کہا گیا ہے کہ اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰى (النجم:۲۰)یعنی بتائو تو سہی کہ کیا تم نے بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اپنےبتوں کا کوئی نشان دیکھا ہے۔یعنی تم نے نہیں دیکھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خدا کے بڑے بڑے نشانات دیکھے ہیں۔یہ تو شرکیہ آیا ت سے پہلے کی آیتیں ہیں۔اور ان شرکیہ آیا ت کے بعد کی یہ آیت ہے کہ اِنْ هِيَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ(النجم:۲۴) یعنی یہ بتوں کے نام تو تم نے خود رکھ لئے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اس کے لئے کوئی دلیل نہیں اتاری۔اب بتائو کہ کیا یہ ممکن ہے کہ شرک کے اقرار سے پہلے بھی شرک کی تردید کی آیتیں ہوں اور اُن کے بعد بھی شرک کی تردید کی آیتیں ہوں۔باوجود اس کے کوئی شخص کہہ دے کہ ان دو تردیدوں کے درمیان محمد ؐرسول اللہ کی زبان پر شیطان نے شرک کے کلمات جاری کر دئیے تھے۔شیطان کو تو ہمارے مفسّر عقل مند کہتے ہیں۔یہاں تک کہ سورۂ بقرۃ کی آیات میں شیطان کو فرشتوں کا اُستاد قرار دیتے ہیں۔اور شیطان اور خدا تعالیٰ کے مباحثے میں خدا کو ہرایا گیا ہے (تفسیرقرطبی سورۃ الکہف واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم۔۔۔)مگر اس کہانی والا شیطان تو کوئی گدھا معلوم ہوتا ہے کہ اُس کو شرکیہ کلمات کے لئے دو زبر دست توحیدی آیات کے درمیان ہی مقام ملا۔اس شیطان کو تو پاگل خانہ میں داخل کرنا چاہیے۔ایسا اُلّو خدا کے بندوں کو بہکاتا کس طرح ہے ؟ پھر یہ لطیفہ دیکھو کہ یہ سورۃ اس آیت پر ختم ہوئی ہے فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا کہ اے لوگو اللہ کے سامنے سجدہ کرو اور صرف اسی کی عبادت کرو۔اس آیت کو سُن کر کون گدھا تھا جو یہ سمجھتا تھا کہ محمد ؐرسول اللہ نے کوئی شرکیہ کلمات کہہ دئیے ہیں۔غرض اس سورۃ کی آیت آیت ہی اس کہانی کو ردّ کر رہی ہے۔یہ اندرونی شہادت ہے اور بیرونی شہادت