تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 194
بطور شاہد اور محافظ کے آیا ہے نہ کہ بطور جابر اور ظالم کے۔وہ لوگ جو اسلامی جہاد پر اعتراض کیا کرتے ہیں انہیں سوچنا چاہیے کہ کیا اس قسم کی لڑائی مسلمانوں کے اختیار میں ہے کہ جب اُن کا جی چاہے شروع کردیں اور کفار کو قیدی بنانا شروع کر دیں۔اس قسم کی جنگ کی ابتداء تو دشمن کی طرف سے ہی ہو سکتی ہے اور جب اُس سے بچنا اُس کے اختیار میں ہے تو اس کے بعد بھی اگر وہ ایسی جنگ کرتا ہے اور جبراً دوسروں کا مذہب اُن سے بدلوانا چاہتا ہے تو یا تو وہ پاگل ہے اور یا پھراس قابل ہے کہ اُسے سزا دی جائے کیونکہ اُسے اختیار تھا کہ وہ حملہ نہ کرتا۔اسے اختیار تھا کہ وہ دوسروں پر ظلم نہ کرتا۔اُسے اختیار تھا کہ وہ دین کے لئے جنگ نہ کرتا اور اس طرح اپنے آپ کو ہلاکت اور بر بادی سے بچالیتا۔اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اِنَّ اللّٰهَ يُدٰفِعُ عَنِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کے بعداُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا پر یہ اعتراض پڑتا تھا کہ جب بندے خود کفار سے لڑے تو خدا تعالیٰ نے کس طرح دفاع کیا ؟ ان آیا ت میں اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ گو بظاہر مومن لڑیں گے لیکن وہ بھی اور دوسرے لوگ بھی جانتے ہیں کہ وہ کمزور ہیں۔جیت نہیں سکتے پس اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُفرما کر بتا یا کہ اصل لڑائی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوگی۔مومن تو اس کا صرف ایک ہتھیار ہوںگے جن سے وہ کام لےگا۔فتح دینا اُس کے اختیار میں ہوگا۔اور وہ فتح دےگا اور یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ یہ لڑائی خدا نے لڑی ہے نہ کہ انسانوں نے۔پھر اگلی آیات میں بھی فرما دیا کہ وَ لَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗکہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے دین کی تائید کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن کی مدد کیا کرتا ہے۔گویا باوجود مومنوں کے لڑنے کے اصل دفاع اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہی رہا۔وَ يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ یہ لوگ عذاب مانگنے میں جلدی کرتے ہیں۔اور اللہ (تعالیٰ) کبھی اپنا وعدہ جھوٹا نہیں کرتا۔اور( کوئی کوئی) دن خدا کے وَ اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ۰۰۴۸وَ نزدیک تمہاری گنتی کے ہزار سالوں کے برابر ہوتا ہے۔اور کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو (پہلے) تو میں نے مہلت