تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 193
ایک قوم کو انصاف قائم کرنے کے لئے کھڑا نہ کر دیتے تو عیسائیوں کے گرجے اور یہودیوں کی عبادت گاہیں اور مسلمانوں کی مسجدیں جن میں اللہ تعالیٰ کا نام بڑی کثرت سے لیا جاتا ہے سب گِرا دی جاتیں۔پس جو مسلمان دین میں دخل اندازی کرنے والی جنگ کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے وہ درحقیقت اپنی مدد نہیں کرتا بلکہ اُن کی مدد کرتا ہے کیونکہ وہ صرف اپنے مذہب کا دفاع نہیں کرتا بلکہ سب مذاہب کا دفاع کرتا ہے۔پس لازماً اللہ تعالیٰ بھی اس کی مدد کرے گا اور چونکہ اللہ تعالیٰ قوی اور غالب ہے ایسا مسلمان بھی قوی اور غالب ہو جائےگا کیونکہ ایسا مسلمان اس ارادہ سے کھڑا ہوتا ہے کہ اگر اس کو طاقت ملے گی تو نماز با جماعت بھی قائم کرےگا اور زکوٰۃ بھی دےگا۔اور نیک باتوں کا حکم بھی دےگا اور بُری باتوں سے بھی رو کے گا اور چونکہ یہ سب امور اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق ہیں اور ساری باتوں کا نتیجہ خدا تعالیٰ نکالتا ہے اس لئے جو شخص خدا تعالیٰ کے منشاء پر چلے گا وہی جیتے گا۔اوریہ نہیں ڈرنا چاہیے کہ مخالفت سخت ہے۔سچائی کی مخالفت نوح ؑ اور عاد اور ابراہیم کے زمانے سے چلی آئی ہے۔مگر ہمیشہ ہی سچائی جیتتی ہے اور اس کے مخالفوں کی تباہی کے نشان اب تک دنیا میں موجود ہیں۔پس ان نشانوں کو دیکھو او رفائدہ اٹھائو کیونکہ اصل دیکھنا دل کا کام ہے آنکھوں کا کام نہیں۔ان آیا ت سے جو مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دینے کے لئے نازل ہوئی ہیں ظاہر ہے کہ اسلامی تعلیم کی رُو سے جنگ کی اجازت صرف اُسی صورت میں ہوتی ہے جب کوئی قوم دیر تک کسی دوسری قوم کے ظلموں کا تختہ مشق بنی رہے اور ظالم قوم اُسے رَبُّنَا اللّٰہَ کہنے سے روکے۔یعنی اُس کے دین میں دخل دے اور وہ جبراً اسلام سے لوگوں کو پھرائے یا اُس میں داخل ہونے سے جبراً باز رکھے اور اس میں داخل ہونے والوں کو صرف اسلام قبول کرنے کے جرم میں قتل کرے۔اُس قوم کے سوا کسی دوسری قوم سے جہاد نہیں ہوسکتا لیکن اگر جنگ ہوگی تو صرف سیاسی اور ملکی جنگ ہوگی جودو مسلمان قوموں میں بھی ہو سکتی ہے مگر اس کا نام جہاد نہیں رکھا جاسکتا اور اس جنگ میں شامل ہونا ہرمسلمان کا فرض نہیں ہوگا بلکہ صرف انہی مسلمانوں کا فرض ہو گا جو اُس لڑنے والی حکومت میں بس رہے ہوں کیونکہ یہ جنگ حب الوطنی کی جنگ کہلائے گی۔دینی جنگ نہیں کہلائے گی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْاِیْمَانِ یعنی وطن کی محبت بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔پھر بتا یا کہ ایسی مظلوم قوم کا فرض ہو تا ہے کہ جب اُسے طاقت ملے تو وہ تمام مذاہب کی حفاظت کرے اور اُن کی مقدس جگہوں کے ادب اور احترام کا خیال رکھے اور اس غلبہ کو اپنی طاقت اور قوت کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ غریبوں کی خبر گیری ، ملک کی حالت کی درستی اور فتنہ و شرارت کے مٹانے میں اپنی قوتیں صرف کرے۔کیونکہ اسلام دنیا میں