تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 138

صلی اللہ علیہ وسلم کی کبھی مدد نہیں کرےگا۔نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں انہیں چاہیے کہ وہ آسمان تک ایک رسی لے جائیں اور اُس پر چڑھ کر رسّی کو کاٹ ڈالیں۔اور زمین پر گِر کر مر جائیں کیونکہ اُن کی یہ اُمید کبھی بر نہیں آئے گی۔وہ اسی طرح تمنا ئیں کرتے کرتے ہلاک ہو جائیں گے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقی اور آپ کے عروج کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔پس اپنی ناکامی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی دیکھنے سے انہیں اُن کی موت ہی بچا سکتی ہے۔اس کے سوا اور کوئی ذریعہ باقی نہیں۔آسمان پر خدا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی کامیابی اور آپ کی غیر معمولی فتوحات کا فیصلہ کر چکا ہے۔اور دشمنوں کے مقابلہ میں اُس کی تلوار کھچ چکی ہے۔اب مخالف بے شک جتنی چاہیں تدبیریں کریں اور بیشک حسد کی آگ انہیں رات دن جلاتی رہے انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جس بات پر انہیں غصّہ آرہا ہے اُسکے متعلق اُن کی تدبیریں ہمیشہ ناکامی و نامرادی کا مُنہ دیکھیں گی اور وہ ایک دن ایڑیاں رگڑ رگڑ کر حسد کی موت مریں گے۔لیکن اسلام ترقی کرے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم دنیا میں پھیل کر رہے گی۔اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِيْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِـِٕيْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ یقیناًجو لوگ ( محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر) ایمان لائے اور وہ لوگ جو یہودی بن گئے اور صابی اور نصرانی اور الْمَجُوْسَ وَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ مجوسی اور وہ لوگ بھی جنہوں نے شرک کیا۔اللہ( تعالیٰ) یقیناً ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔الْقِيٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ۰۰۱۸ اللہ (تعالیٰ )یقیناً ہر ایک چیز کا نگران ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے جولوگ توحید پر چلتے ہیں اُن کے بھی مختلف مدارج ہیں۔ایک درجۂ توحید تو مسلمانوں کا ہے اور ایک درجہ یہودیوں کا اور ایک صابیوں کا اور ایک عیسائیوں کا ( عیسائی شروع میں موحد ہوتے تھے ) اور ایک مجوس کا اور ایک مشرکوں کا ( مشرک قوم میں بھی بعض لوگ ایسے تھے۔جو توحید کے قائل تھے۔چنانچہ مکّہ کا ایک شخص زید تھا۔جو خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا قائل تھا۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ذکر ورقۃ بن نوفل و زید بن عمرو بن