تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 103

اسی طرح شَخَصَ بِبَصَرِہٖ کے معنے ہیں رَفَعَہٗ۔آنکھ کو اٹھایا۔(اقرب ) پس شَاخِصَۃٌ کے معنے ہوںگے اوپر اٹھنے والی اور ٹکٹکی لگا کر دیکھنے والی آنکھ۔زَفِیْر۔زَفِیْر کے معنے الدَّاھِیَةُ۔مصیبت اَوَّلُ صَوْتِ الْحِمَارِگدھے کی ابتدائی آواز جو اس کے گلے سے نکلتی ہے جو چیخ کے مشابہ ہوتی ہے (اقرب) مفردات میں ہے الزَّفِیْرُ تُرَدُّدُ النَّفْسِ حَتّٰی تَنْتَفِخَ الضُّلُوْعُ مِنْہُ یعنی سانس کا اس طور پر آنا کہ اس سے پسلیاں پھول جائیں (مفردات ) تفسیر۔فرماتا ہے جب وعدہ کے پورا ہونے یعنی ان قوموں کے سزا پانے کا وقت آجائےگا تو گھبراہٹ میں ان کی آنکھیں چڑھی کی چڑھی رہ جائیںگی۔اور وہ آپس میںکہیں گے افسوس ہم اس دن سے غفلت برتتے رہے بلکہ ہم گناہوں میں بڑھتے چلے گئے تب اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا کہ تم اور تمہار ے معبود آج جہنم میںجائو گے اگر تمہارے معبود سچے ہوتے تو اس ذلت کو کیوں برداشت کرتے ؟ اس آیت میںاس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ گو وہ گمراہی کا زمانہ ہوگا مگر بت پرستی مٹا دی جائےگی اسی طرح اس میںیہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ایک وقت میںتو یہ قومیںبڑا فخر کریںگی مگر جب سزا کا وقت آجائےگا تو چلانے لگیں گی اور ایک دوسرے سے تعاون چھوڑدیں گی۔اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓىِٕكَ عَنْهَا یقیناً وہ لوگ جن کے متعلق ہماری طرف سے نیک سلوک کا وعدہ ہوچکا ہے وہ اس دوزخ سے دور مُبْعَدُوْنَۙ۰۰۱۰۲لَا يَسْمَعُوْنَ حَسِيْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِيْ مَا رکھے جائیںگے۔وہ اس کی آواز تک نہیںسنیںگے۔اور وہ اس( حالت) میں جسے اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ۰۰۱۰۳لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ ان کے دل چاہتے ہیںہمیشہ رہیں گے۔بڑی پریشانی کا وقت بھی الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ١ؕ هٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِيْ ان کو غمگین نہیں کرے گا اور فرشتے ان سے ملیں گے او رکہیں گے یہ وہ تمہارا دن ہے