تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 100
زمین پر اٹھی ہوئی جگہ یعنی ٹیلہ۔یَنْسِلُوْنَ۔یَنْسِلُوْنَ نَسَلَ سے مضارع جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے اور نَسَلَ الْمَاشِی فِی مَشْیِہٖ کے معنے ہیں اَسْرَعَچلنے والے نے اپنی رفتار میںجلدی کی۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے ہر بستی جس کو ہم فنا کرچکے ہیں اس پر اس وقت تک واپس لوٹنا حرام ہے جب تک کہ یاجوج اورماجوج کو آزاد نہ کردیاجائے اوروہ ہر پہاڑ کی چوٹی اور سمندر کی ہر لہر پر سے پھلانگتے کودتے دنیامیں پھیل نہ جائیں یعنی آخر ی زمانہ میں جبکہ یاجوج اور ماجوج یعنی روس اور مغربی ممالک کو دنیامیںپھیلنے کے لئے آزاد کردیا جائے گا اور وہ تمام دنیاپر پہاڑ کی ہرچوٹی اور سمندر کی ہر لہر سے کودتے پھاندتے ہوئے پھیل جائیںگے یعنی ان قوموں کاغلبہ ہوجائے گا۔جیسا کہ آج کل ہورہا ہے۔تو اس کے بعد ان کی تباہی کے متعلق ہمارا وعدہ پور اہوگا۔چونکہ پہاڑ کی چوٹیاں اورسمندر کی لہریں اونچی ہوتی ہیں اس لئے یہ دو قومیں جن کے لئے پہاڑوں اور سمندروں کی لہروں کے اوپرسے پھلانگتے اور کودتے ہوئے دنیامیںپھیل جانا مقدر تھا ان کے متعلق یَنْسِلُوْنَ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے آج کل کا زمانہ وہی ہے کہ ایک طرف روس آدھی دنیاپر قابض ہے اور دوسری طرف مغربی ممالک دوسرے حصہئ دنیا پر قابض ہیں اور دونوں اپنے اپنے اصول کو لوگوں میں راسخ کرنے کی فکر میں ہیں ایک فریق جمہوریت کو اس کے تمام عیوب سمیت دنیا میںترقی دینے کی کوشش کر رہا ہے اور دوسرا فریق قابلیت اور لیاقت کو ترقی دینا چاہتا ہے اور جمہوریت کی روح کو دبانا چاہتا ہے۔یہ دو اصول اس وقت دنیا میں ایک دوسرے کے مقابلہ میںغلبہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ایک اصل تو اس بات کی جدوجہد میںمشغول ہے کہ افراد کی طاقت کو بڑھاکر دنیا میںغلبہ حاصل کیاجائے اور دوسرا اصل اس غرض کے لئے کوشاں ہے کہ اعلیٰ قابلیت کو راہنمائی کی باگ ڈور دے کر دنیا پر غلبہ حاصل کیاجائے۔ان دونوں گروہوں نے دنیا پر کامل طور پر غلبہ حاصل کیا ہوا ہے۔اور ساری دنیا ان دو گروہوں میں تقسیم ہوکر رہ گئی ہے۔اسلام ان دونوں کے خلاف اور ان دونوں سے بالکل الگ ایک درمیانی راہ پیش کرتاہے۔وہ انفرادیت کو بھی نظر انداز نہیںکرتا۔اور وہ چیدہ افراد کی طاقتوں سے کام لینے کو بھی نا پسند نہیں کرتا۔وہ یہ اجازت بھی نہیںدیتا کہ افراد کی حریّت کو کچل دیا جائے۔اور یہ بھی اجازت نہیںدیتا کہ چیدہ افراد کی قابلیت سے دنیا کو محروم کردیا جائے۔غرض اسلامی تعلیم کادائرہ اپنی وسعت کے ساتھ ان دونوں گروہوں پر حاوی ہے اوروہ دونوں کے درمیان ایک راستہ بتاتاہے۔وہ ایک طرف تو یہ تسلیم کرتاہے کہ سب انسانوں میں ذہنی مساوات نہیں بعض دماغ زیادہ قابلیت رکھتے ہیں اور بعض کم بعض زیادہ قربانیاں کرسکتے ہیں اور بعض کم۔بعض زیادہ