تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 5

سے رہو اور اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرو۔جب یہ جواب ممبران وفد نے سنا تو انہوں نے وہ تحائف استعمال کئے جو مکہ والوں نے انہیں دئیے تھے چنانچہ بڑے بڑے بطریقوں اور پادریوں کو انہوں نے تحفے دئیے (بطریق درحقیقت Patriarchکا عربی تلفظ ہے جو ایک بڑے پادری کو جو اپنے حلقہ میں قریباً پوپ کی حیثیت رکھتا ہے کہا جاتا ہے) اور انہیں اکسایا کہ یہ دراصل تمہارے بھی دشمن ہیں اور ہمارے بھی۔کیونکہ ان کے خیالات اور عقائد عیسائیت کے سخت خلاف ہیں۔اور یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کی والدہ کی ہتک کرتے ہیں۔اگر تم ان لوگوں کو حبشہ میں رہنے کا موقع دو گے تو تم عیسائیت سے دشمنی کرو گے۔اس اشتعال انگیزی کے نتیجہ میں جیسا کہ آج کل ہمارے خلاف لوگوں کو جوش آ جاتا ہے ان کا بھی مشتعل ہو جانا ایک لازمی امر تھا۔چنانچہ انہیں غصہ آیا اور انہوں نے تجویز کی کہ دوسرے دن پھر بادشاہ کے سامنے یہ معاملہ رکھا جائے۔چنانچہ دوسرے دن جب دربار لگا تو بڑے بڑے پادریوں نے پھر اس سوال کو اٹھایا اور انہوں نے نجاشی سے کہا کہ یہ معاملہ خالی سیاسی ہی نہیں بلکہ مذہبی بھی ہے کیونکہ یہ لوگ مذہباً مکہ والوں کے ہی خلاف نہیں بلکہ ہمارے بھی خلاف ہیں اور مسیح اور ان کی والدہ کی ہتک کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کو اپنے ملک میں نہیں رکھنا چاہیے۔بادشاہ نے ان کو پھر بلوایا اور پوچھا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ تم لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کی ہتک کرتے ہو۔کیا یہ درست ہے؟ اس پر حضرت جعفرؓ جو رسول کریم صلی ا للہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور حضرت علیؓ کے سگے بھائی تھے مسلمانوں کی طرف سے آگے بڑھے اور انہوں نے کہا۔اے بادشاہ! میں آپ کو اپنی مذہبی کتاب کی چند آیتیں سنا دیتا ہوں ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کا ذکر ہے۔آپ کو پتہ لگ جائے گا کہ ہم ان کے متعلق کیا عقیدہ رکھتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے سورۂ مریم کی چند ابتدائی آیتیں پڑھ کر سنائیں۔جب انہوں نے یہ آیتیں سنائیں۔تو چونکہ عام طور پر عیسائیوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خدا ہونے اور ان کی والدہ کے متعلق خدا کی والدہ ہونے کا خیال پایا جاتا تھا اور ایبے سینیا میں یہ مشرکانہ خیالات زیادہ تھے اس لئے پادریوں نے شور مچا دیا کہ ہمارے مسیح کی ہتک کی گئی ہے۔مگر بادشاہ کا یہ مذہب نہیں تھا۔وہ یونیٹیرین خیالات کا تھا جو خدا تعالیٰ کو ایک مانتے ہیں اور روایات سے پتہ لگتا ہے کہ وہ بعد میں مسلمان بھی ہو گیا تھا۔اس نے کہا مسلمان جو کچھ کہتے ہیں ٹھیک ہے۔بلکہ تاریخوں میں لکھا ہے اس نے ایک تنکا اٹھا کر کہا خدا کی قسم جو کچھ ان آیات میں بیان کیا گیا ہے میں مسیح اور اس کی والدہ کو اس سے ایک تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں سمجھتا۔اس پر پادری اور زیادہ جوش میں آ گئے اور انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی تو ملک میں بغاوت ہو جائے گی