تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 6

اور آپ کے خلاف لوگوں میں جوش پیدا ہو جائے گا۔جب انہوں نے یہ کہا کہ اگر مسلمانوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی تو ملک میں بغاوت ہو جائے گی تو نجاشی کو غصہ آگیا اور اس نے کہا میں چھوٹا تھا کہ تم نے میرے چچا سے مل کر مجھے بادشاہت سے محروم کرنا چاہا۔مگرمیرے خدا نے میری مدد کی اور اس نے مجھے حکومت عطا فرمائی۔پس میں اگر بادشاہ بنا ہوں تو اس خدا کے فضل سے جس نے میرے مقابلہ میں تمہیں شکست دی اور مجھے کامیاب فرمایا۔کیا تم سمجھتے ہو کہ جس خدا نے میرے بچپن میں میری مدد فرمائی تھی اس خدا کو میں اب جوان ہو کر چھوڑ دوں گا۔جائو جو تمہارے جی میں آتا ہے کر لو۔میں انصاف کے معاملہ میں تمہاری کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں اور اس نے مکہ کے وفد کو واپس لوٹا دیا اور مسلمانوں کو عزت کے ساتھ دربار سے رخصت کیا۔ان واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ ہجرت حبشہ جو دعویٰ نبوت کے پانچویں سال کے نصف اول میں ہوئی۔اس سے پہلے سورۂ مریم نازل ہو چکی تھی اور مسلمانوں میں پھیل بھی چکی تھی تبھی تو مہاجرین نے شاہ حبشہ کے سامنے اپنے عقیدہ کی توضیح کے لئے اسے پڑھا پس یہ ابتدائی زمانہ کی نازل شدہ سورۃ ہے اور ہجرت حبشہ سے پہلے کی ہے (یہ روایت جس کااوپر ذکر کیا گیا ہے محمد بن اسحا ق نے ام سلمہؓ سے اپنی سیرۃ میں اور امام احمد بن حنبل نے ابن مسعودؓ سے اپنی مسند میں بیان کی ہے) مقاتل کے نزدیک سورۂ مریم کی صرف آیت سجدہ مدنی ہے باقی ساری سورۃ مکی ہے(روح المعانی جلد ۶ صفحہ ۳۷۷)۔راڈول کا خیال ہے کہ اس سورۃ کی آیت ۱ تا ۳۷ کی عبارت سورۂ آل عمران کی آیت ۳۵ تا ۵۷ سے فرق رکھتی ہے (اس سورۃ میں بھی یہی مضمون بیان ہوا ہے) وہ کہتا ہے کہ یہ فرق اس اعتراض سے بچنے کے لئے کیا گیا ہے کہ لوگ شاعر کہیں گے گویا اس کے نزدیک اہل عرب کے اعتراض سے ڈر کر ان آیات کے طرز بیان کو بدل دیا گیا ہے(ترجمہ القرآن روڈویل) حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے۔دنیا میں ہر شخص جانتا ہے کہ شعر کس چیز کا نام ہے اور اہل عرب تو خاص طور پر شعر گوئی میں مشہور تھے۔وہ قرآن کریم کی نثر کو شعر کس طرح کہہ سکتے تھے حقیقت یہ ہے کہ ان یوروپین مستشرقین نے قرآن تو کیا سمجھنا تھا انہوں نے دشمنوں کا اعتراض بھی نہیں سمجھا ان کا اعتراض یہ نہیں تھا کہ یہ کوئی باوزن کلام ہے بلکہ اصل اعتراض ان کا یہ تھا کہ یہ کلام اپنے اندر شاعرانہ روح رکھتا ہے۔مستشرقین یورپ نے یہ سمجھ لیا کہ اس سورۃ میں چونکہ نَدِیًّا اور رَضِیًّا وغیرہ الفاظ آتے تھے اس لئے شاید ان الفاظ کی وجہ سے مشرکین مکہ رسول کریم صلی ا للہ علیہ وسلم کو شاعر کہا کرتے تھے حالانکہ ان کا اعتراض روح شاعری کے متعلق تھا یعنی جس طرح شاعر اپنے مضمون کو مختلف پیرایوں میں بدل بدل کر بیان کرتا ہے اسی طرح قرآن کریم مختلف رنگوں میں بات کو پھیر پھیر کر بیان کرتا ہے۔ورنہ ان میں خود بڑے بڑے شاعر موجود تھے وہ بھلا کہہ سکتے تھے کہ یہ کلام شعر ہے۔مگر یوروپین