تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 68

نیک ،راستباز ، بے عیب اور شریعت پر چلنے والے تھے تو معلوم ہوا کہ کفارہ کے بغیر بھی دنیا میں نیکی قائم تھی اور جب کفارہ کے بغیر دنیا میں نیکی قائم تھی تو آئندہ بھی قائم رہ سکتی ہے اور اس کے لئے کسی کفارہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔بعض دفعہ مسیحی علماء اس سوال کے متعلق کہ پہلے لوگ جو نجات پا گئے تھے انہوں نے کس طرح نجات پائی اورپہلے لوگوں میں سے جو نیک گزرے ہیں وہ کس طرح نیک ہوئے تھے؟ یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ پہلے لوگ بھی مسیح کے کفارہ پر ایمان لانے سے نیک ہوئے تھے اور مسیح کے کفارہ پر ایمان لانے کی وجہ سے ہی ان کو نجات ملی تھی۔مگر ظاہر ہے کہ ان کا یہ دعویٰ محض ڈھکوسلہ ہے وہ اپنے اس دعویٰ کی بنیاد محض اس بات پر رکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ، حضرت دائودؑ اور بعض اور انبیاء نے مسیح کی خبر دی تھی حالانکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئیوں میں کہیں مسیح کی خبر کا پتہ نہیں لگتا۔یہ محض ایک دھوکا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف اتنی خبر دی تھی کہ ان کی اولاد کو بابرکت کیا جائے گا اور یہ کہ ان کی اولاد کے ذریعہ خدا تعالیٰ اپنے تقدس کو ظاہر کرے گا۔ظاہر ہے کہ یہ خبر اولاد ابراہیم کے حق میں ہے کسی خاص فرد کے حق میں نہیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام جو خدا تعالیٰ کے ایک بزرگ نبی تھے وہ اس پیشگوئی کے ماتحت آ جاتے ہیں۔حضرت اسحاق علیہ السلام جو خدا تعالیٰ کے ایک بزرگ نبی تھے وہ اس پیشگوئی کے ماتحت آ جاتے ہیں۔اسی طرح یعقوبؑ۔یوسف ؑ۔موسیٰ ؑ۔دائودؑ اور زکریا ؑسب اس پیشگوئی کے ماتحت آتے ہیں۔بعض اور نبیوں کی پیشگوئیوں سے بے شک معلوم ہوتا ہے۔کہ وہ ایک آنے والے مسیح کی خبر دے رہے ہیں لیکن کسی آنے والے کے متعلق خبر دینا اور یہ خبر دینا کہ خدا تعالیٰ کا ایک بیٹا ہوگا جو لوگوں کے گناہوں کا کفارہ ہو گا اور اس کے بغیر دنیا کو نجات نہیں مل سکے گی ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے قریباً ہر نبی کی خبر پہلے نبیوں نے دی ہے حضرت یحی کی خبر پہلے سے موجود تھی،حضرت داؤد کی خبر پہلے سے موجود تھی اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خبر بھی پہلے سے موجود تھی مگر اس سے یہ نہیں نکلتا کہ ان کے آنے کی اس رنگ میں خبر موجود تھی کہ ان کے کفارہ پر ایمان لانے سے دنیا کو نجات ملے گی۔پھر ہم کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو خبر اپنی اولاد کے متعلق دی تھی وہ خبر اگر فرض کر و اس مفہوم کی بھی ہو کہ آئندہ زمانہ میں میرا ایک بیٹا ایسا ہوگا جس سے دنیا کو نجات ملے گی تو بہرحال وہ مسیح پر چسپاں نہیں ہو سکتی کیونکہ مسیح ؑ کے دعویٰ کی ساری بنیاد اس بات پر ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے بیٹے ہیں۔عیسائیت کہتی ہے کہ آدم کے بیٹے کا گنہگار ہونا ضروری ہے اور گنہگار دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا پس ضروری ہے کہ اس کے لئے کوئی ایسا وجود تلاش کیا جائے جو آدم کا بیٹا نہ ہو چنانچہ وہ کہتی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنا اکلوتا یسوع مسیح دنیا میں بھیجا تاکہ وہ لوگوں کے گناہوں