تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 67

میں شامل ہے) اسی طرح ملک صدق سالم بھی ازلی ابدی ہے۔نہ اس کی کوئی ابتداء اور نہ انتہاء۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ اس دنیا میں ایک اور وجود بھی تھا جو نیک تھا اور ایسا نیک تھا کہ وہ راستبازی اور صلح کا بادشاہ تھا اور ابراہیم ؑ کو برکت دینے کا حق رکھتا تھا۔پھر انجیل میں حضرت زکریا ؑ اور ان کی بیوی کے متعلق لکھا ہے۔’’ وہ دونوں خدا کے حضور راستباز اور خداوند کے سب احکام و قوانین پر بے عیب چلنے والے تھے‘‘ (لوقاباب ۱ آیت۶) پھر یوحنا کے بارے میں حضرت زکریا علیہ السلام کو فرشتے نے کہا :۔’’وہ خداوند کے حضور میں بزرگ ہوگااور ہرگز نہ مے نہ کوئی اور شراب پئے گا اور اپنی ماں کے بطن ہی سے روح القدس سے بھر جائے گا۔(لوقاباب ۱آیت ۱۵) گویا یوحنا پر روح القدس کا نزول ماں کے پیٹ سے نکلنے کے بعد نہیں ہوگا بلکہ ابھی وہ ماں کے پیٹ میں ہی ہو گا کہ روح القدس اس پر نازل ہو گا اور وہ اسے اپنے تصرف میں لے لے گا اور یہ صاف بات ہے کہ گناہ ماں کے پیٹ سے نکلنے کے بعد شروع ہوتا ہے جب کسی پر ماں کے پیٹ میں ہی روح القدس نازل ہو جائے گا تو وہ گناہ کا مرتکب ہی نہیں ہو سکے گا۔غرض یوحنا کے متعلق بھی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی گناہ اور خرابی ان کے قریب نہیں آئی۔بلکہ حضرت مسیح ؑ نے یہاں تک کہا کہ:۔’’ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں ان میںیوحنا بپتسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں۔‘‘ (متی باب ۱۱ آیت ۱۱ و۱۲) اس طرح اس نے یوحنا کو اپنی ذات سے بھی بالا ثابت کیا۔کیونکہ مسیح ؑ بھی عورت سے پیدا ہوا تھا اور یوحنا بھی عورت سے پیدا ہوئے۔ان حوالوں سے ظاہر کہ انجیل کے رو سے حضرت زکریا ؑاور ان کی بیوی دونوں بے عیب تھے اور خدا تعالیٰ کے قانون پر چلنے والے تھے۔اسی طرح یوحنا ماں کے پیٹ سے ہی روح القدس سے بھرے ہوئے تھے اور وہ کامل اور بے عیب تھے۔اب اگر یوحنا اور زکریاا ور ان کی بیوی بے گناہ ہو سکتے ہیں تو اسی قانون کے ماتحت دوسرے لوگ بھی کیوں بے گناہ نہیں ہو سکتے۔جب عملاً حضرت مسیح سے پہلے ایسے لوگ گزرے ہیں جو کفارہ واقعہ ہونے سے پہلے