تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 2

قرار دیتے ہیں(دلائل النبوۃ للبیھقی باب ذکر سور التی نزلت بمکۃ والتی نزلت بمدینۃ)۔مغربی مصنف بھی اس سورۃ کو مکی قرار دیتے ہیں۔چنانچہ راڈول، وہیری اور میور یہ تینوں مستشرق اس کے مکی ہونے کے قائل ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ وہ اس کے زمانہ نزول کو ذرا آگے پیچھے بیان کرتے ہیں۔مثلا میور کے نزدیک اس کا وقت نزول قبل از ہجرت زندگی کے آخری زمانہ کے ساتھ ملتا ہے یعنی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم طائف کے لوگوں کو تبلیغ کرنے کے لئے گئے اور ان کی سنگدلی اور بدسلوکی کی وجہ سے واپس آ گئے تو میور کے نزدیک اس وقت یہ سورۃ آپ پر نازل ہوئی تھی (Life of Mohammad page 148) اور یہ واقعہ دسویں سال نبوت کا ہے گویا وہ اس سورۃ کو آخری مکی زندگی کی قرار دیتا ہے۔راڈویل اس کو مکی ہی قرار دیتا ہے لیکن کوئی خاص وقت اس کے لئے معین نہیں کرتا (ترجمہ القرآن از راڈویل)۔اور وہیری جیسا کہ اس کی عام طور پر عادت ہے بات وہی کہہ دیتا ہے جو ہماری تاریخوں میں ہوتی ہے لیکن کوشش کرتا ہے کہ نیش زنی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دے۔اس نے بھی یہی قرار دیا ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے لیکن ابتدائی زمانہ کی ہے۔صرف اپنی علمیت جتانے کے لئے اتنا فرق بتاتا ہے کہ یہ سورۃ اتنی ابتدائی نہیں جتنی صحابہؓ کہتے ہیں بلکہ اس سے سال بھر پیچھے کی ہے۔حالانکہ کوئی شخص یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ تیرہ سو سال بعد پیدا ہو کر اس کو یہ کس طرح پتہ لگ گیا کہ یہ سال بھر پہلے کی ہے یا بعد کی۔اس قسم کا قول محض تمسخر ہوتا ہے۔وہ کہتا ہے اسلام کا جو دوسرا دور تھا یعنی ہجرت حبشہ کا۔اس کے ابتداء میں یہ نازل ہوئی اور پھر کچھ عرصہ تک نازل ہوتی چلی گئی۔گویا وہ اس کو پانچویں یا چھٹے سال کی قرار دیتا ہے۔لیکن سند کوئی نہیں بیان کرتا۔(کمنٹری اَون دی قرآن وہیری جلد سوم) اس بارہ میں حدیثوں سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے اور درحقیقت وہی اصل روایات ہیں جن پر اس مسئلہ کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔کیونکہ جو لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور جنہوں نے اس زمانہ کے واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا وہی صحیح گواہی دے سکتے ہیں کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی۔وہ یہی ہے کہ یہ ابتدائی زمانہ کی سورۃ ہے۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت ابتدائی صحابہؓ میں سے تھے وہ اس سورۃ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ سورۃ میرے ابتدائی اموال میں سے ہے۔بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓکے متعلق آتا ہے کہ قَالَ: فِی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَالْکَھْفِ وَ مَرْیَمَ: اِنَّھُنَّ مِنَ الْعِتَاقِ الْأُوَلِ وَ ھُنَّ مِنْ تِلَادِیْ (بخاری کتاب التفسیر باب وقولہ: و منکم من یرد الی۔۔۔) یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود نے ایک مجلس میں بیان فرمایا کہ سورۂ بنی اسرائیل ، سورئہ کہف اور سورئہ مریم یہ ابتدائی زمانہ میں نازل ہونے والی سورتوںمیں سے ہیں۔وَ ھُنَّ مِنْ تِلَادِی اور یہ میرے پرانے اموال میں سے ہیں۔یعنی جب میں ابتداء میں اسلام لایا تو اس