تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 1 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 1

سُوْرَۃُ الْکَوْثَرِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ کوثر۔یہ سورۃ مکی ہے وَھِیَ ثَلٰثُ اٰیَا تٍ دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَ فِیْـھَا رُکُوْعٌ وَّاحِدٌ اوراس کی بسم اللہ کے علاوہ تین آیات ہیں اور ایک رکوع ہے سورۃ کوثر مکی سورۃ ہے سورۃ کو ثر اکثر رواۃ کے نزد یک مکی سورتوں میں سے ہے۔حسن بصری ؒ، عکرمہؓ اور قتادہ اسے مدنی قرار دیتے ہیں۔یوروپین مستشرقین کے نزدیک یہ سورۃ مکی ہے اور اسلام کے بالکل ابتدائی زمانہ کی ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا دعویٰ کیا تو مشرکین مکہ میں سے کچھ لوگ آپ کو نعوذباللہ دیوانہ سمجھتے تھے اور اس لئے وہ آپ سے کچھ سرو کار نہیں رکھتے تھے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو یہ کہتے تھے کہ یہ شخص عرب کے قومی مذہب کو بگاڑنے کی تدبیریں کر رہا ہے اس کا مقابلہ کرنا چا ہیے، اس لئے وہ آپ کو ایذائیں دیتے، دکھ دیتے اور مارتے پیٹتے تھے۔پھر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ اگر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی تم مخالفت کروگے اور اسے مارو پیٹو گے تو خواہ مخواہ لوگوں کی توجہ اس کی طرف منعطف ہو گی۔کیونکہ باہر کے لوگ مکہ آتے ہیں جب وہ دیکھتےہیں کہ تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کو ایذائیں دیتے ہو، مارتے ہو، پیٹتے ہو تو وہ اس کے متعلق پوچھنے لگ جاتے ہیں اور اس کے معاملہ میں دلچسپی لینے لگ جاتے ہیں۔اس طرح اسے اہمیت اور عظمت حاصل ہوتی جارہی ہے۔گو اس کی باتیں ہمیں پسند نہیں ہیں۔گو اس کی تعلیم سارے عرب کے قومی مذہب کے خلاف ہے مگر مصلحتاً ہمیں اسے کچھ نہیں کہنا چاہیے تا اسے اہمیت و عظمت حاصل نہ ہو جائے ان لوگوں میں سے عاص بن وائل بھی تھا جو مکہ کا ایک بڑا سردار تھا۔اس کا بھی یہی خیال تھا کہ مخالفت کی وجہ سے چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اہمیت حاصل ہورہی ہے اور لوگوں کی توجہ ان کی طرف مبذول ہو رہی ہے اس لئے ہمیں مخالفت سےرک جانا چاہیے اور انہیں کچھ نہیں کہنا چاہیے۔اگرچہ ہمیں ان کی حرکات پسند نہیں اور اگرچہ ان کی تعلیم ہمارے مذہب کے خلاف ہے۔مگر پھر بھی مصلحت اسی میں ہےکہ انہیں کچھ نہ کہیں۔چنانچہ عاص بن وائل کہا کرتا تھا کہ دَعُوْہُ اِنَّـمَاھُوَ رَجُلٌ اَبْتَـرُ لَا عَقِبَ لَہٗ لَوْ ھَلَکَ انْقَطَعَ ذِکْرُہٗ وَاسْتَـرَحْتُمْ مِنْہُ (البحر المحیط سورۃ الکوثر) یعنی محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کو