تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 520
’’ ڈاکڑ عبد الحکیم خان اپنے رسالہ المسیح الدجال وغیرہ میں میرے پر یہ الزام لگاتاہے کہ گویا میںنے اپنی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ جو شخص میرے پر ایمان نہیںلائےگا گو وہ میرے نام سے بھی بے خبر ہوگا اور گووہ ایسے ملک میں ہوگا جہاں تک میری دعوت نہیں پہنچی تب بھی وہ کافر ہوجائےگا اور دوزخ میں پڑے گا۔یہ ڈاکٹر مذکور کاسراسر افتراء ہے۔میں نے کسی کتاب یا کسی اشتہار میںایسا نہیں لکھا۔اس پرفرض ہے کہ وہ ایسی کوئی میری کتاب پیش کرے جس میں یہ لکھا ہے۔یاد رہے کہ اس نے محض چالاکی سے جیسا کہ اس کی عادت ہے یہ افتراء میرے پر کیا ہے۔یہ تو ایسا امر ہے کہ بالبداہت کوئی عقل اس کو قبول نہیں کرسکتی۔جو شخص بکلی نام سے بھی بے خبر ہے اس پر مواخذہ کیونکر ہو سکتا ہے۔۔۔۔ایسا ہی عقیدہ میرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بارہ میں بھی ہے کہ جس شخص کو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچ چکی ہے اور وہ آپ کی بعثت سے مطلع ہوچکا ہے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے بارہ میں اس پرا تمام حجت ہوچکا ہے وہ اگر کفر پر مرگیا توہمیشہ کی جہنم کا سزاوار ہوگا اورا تمام حجت کا علم محض خدا تعالیٰ کو ہے۔ہاں عقل اس بات کو چاہتی ہے کہ چونکہ لوگ مختلف استعداد اور مختلف فہم پر محمول ہیںاس لئے اتمام حجت بھی صرف ایک ہی طرز سے نہیںہوگا ‘‘ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۸۴،۱۸۵ ) الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِيْهَا (وہی ہے ) جس نے تمہارے لئے اس زمین کو فرش کے طورپر بنایا ہے۔اور اس میںتمہارے لئے راستے بھی سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نکالے ہیں۔اور آسمان سے پانی اتاراہے۔پھر(تو ان سے یہ بھی کہہ دے کہ ) ہم نے اس پانی کے ذریعہ سے نَّبَاتٍ شَتّٰى ۰۰۵۴كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ مختلف قسم کی روئید گیوں کے جوڑے پیدا کئے ہیں۔(پس ) تم بھی کھاؤ او راپنے جانوروں کو بھی چرائو اس میں