تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 519
کا تو بُراحال ہوگا۔اس طرح اس نے لوگوں کو اشتعال دلانا چاہا اور وہی حربہ استعمال کیا جو ہمیشہ سے انبیا ء کے مخالف استعمال کرتے چلے آرہے ہیں دنیا میں عام طورپر سچائی کے مقابلہ میںلوگوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کہا جاتاہے کہ اگر تم سچے ہو توپھر ہمارے باپ دادے تو جھوٹے اور جہنمی ہوئے اور جب کسی بات کے ساتھ جذبات مل جاتے ہیں تو دلیل لوگوں کی نگاہ سے غائب ہوجاتی ہے۔مثلاً جب توحید کی تبلیغ کی جارہی ہو تو ایک بت پرست فوراً کھڑاہو جاتا ہے اور کہتاہے سنو یہ توحید کے پرستار کیا کہتے ہیں۔یہ کہتے ہیںتمہارے باپ دادے بڑے جاہل تھے بڑے احمق اور نادان تھے جو بتوں کے آگے سر جھکاتے رہے اب کون شخص یہ ماننے کے لئے تیار ہو سکتا ہے کہ اس کے باپ دادا واقعہ میںجاہل تھے آخر کافر کو بھی اپنے ماں باپ سے محبت ہوتی ہے اس لئے وہ یہ برداشت نہیںکرسکتاکہ انہیںبرابھلا کہا جائے پس جب وہ ان کے سامنے شرک کو اس رنگ میں پیش کرتاہے کہ تمہارے باپ دادے اسے مانتے تھے اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ جاہل اور بے ایمان تھے۔تو لوگوں میںاشتعال پیداہو جاتاہے۔اور وہ کہتے ہیںیہ ہمارے باپ دادا کو برا بھلا کہتے ہیں انہیںقتل کردو۔ان کامال و اسباب لوٹ لو اور انہیںاپنے ملک سے نکال دو ہم اپنے ماںباپ کی ہتک برداشت نہیں کرسکتے۔غرض مخالف ہمیشہ اس اشتعال انگیز حربہ سے کام لیتے رہے ہیں۔مگر یہ حربہ دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوا فطرت صحیحہ ہمیشہ غالب آتی رہی ہے اور یہ حربہ ناکامیاب ہوتارہا ہے۔قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ فِيْ كِتٰبٍ١ۚ لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَ لَا يَنْسَى حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے جواب میں کہا کہ باپ دادوں کا حال تو خدا کومعلوم ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہر شخص سے اس کے حالات کے مطابق معاملہ کرتاہے مجھے کیا معلوم ہے کہ تمہارے باپ دادوںتک کون سی سچائی پہنچی تھی اور کون سی سچائی نہیںپہنچی یایہ کہ ان پر حجت تمام ہوئی تھی یا نہیں۔جزاسزا تو پورے حالات کے علم کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور وہ صرف خدا کو ہے پھر میںاس بارہ میں کیا کہہ سکتاہوں جو حقیقت سے بے خبر ہوں۔اسی امر کے متعلق بانی سلسلہ احمدیہ نے تحریر فرمایا ہے کہ جزا سز ا اتمام حجت سے تعلق رکھتی ہے اور اتمام حجت کا تعلق خدا تعالیٰ سے ہے۔بندہ اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔چنانچہ جب آپ پر بعض شریروں نے الزام لگایا کہ آپ اپنے نہ ماننے والوں کو جہنمی قرار دیتے ہیں۔توآپ نے اس سے صاف انکار کیا اور فرمایا کہ میں تو خادم ہوں میرا عقیدہ تو اپنے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی یہی ہے کہ ان کے نہ ماننے والوںمیںسے بھی وہی دوزخی ہوںگے جن پرحجت تمام ہوچکی ہوگی۔چنانچہ آپ نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میںتحریر فرمایا کہ۔