تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 46
مقصد کے لئے مجھ سے دعا کروانی تھی میرے دل میں خیال آیا کہ ایسے لوگ روز روز کہاں قابو آتے ہیں انہیں اچھی طرح نصیحت کرنی چاہیے۔چنانچہ شام کا کھانا میں نے ان کو اپنے ساتھ ہی کھلایا اور پھر میں نے انہیں نصیحتیں کرنی شروع کر دیں اور گیارہ بارہ بجے تک انہیں سمجھتا تا رہا۔میں نے کہا بتائو تم نماز پڑھتے ہو وہ کہنے لگا گھر پر تو کبھی پڑھ ہی لیتے ہیں مگر سفر میں صفائی وغیرہ کا چونکہ پورا اہتمام نہیں رہتا اس لئے نماز نہیں پڑھی جاتی۔میں نے کہا تم لاکھوں روپے کے مالک ہو اور اب بھی تم آئے ہو تو پانچ سات نوکر تمہارے ساتھ ہیں اگر تمہارا یہ حال ہے تو غرباء کا کیا حال ہوتا ہوگا حالانکہ غرباء پر نماز زیادہ فرض نہیں جیسے تم پرفرض ہے ویسے ہی ان پر فرض ہے مگر تمہیں ان کے مقابلہ میں بیسیوں سہولتیں حاصل ہوتی ہیں تم نے گاڑی کے کمرے ریزرو کرائے ہوتے ہیں اور تم مزے سے ان میں لیٹے ہوئے آتے ہو۔تم خدا تعالیٰ کو کیا جواب دو گے اور نمازیں نہ پڑھنے کا کیا عذر پیش کرو گے ایک غریب تو کہہ دے گا کہ اللہ میاں پر مجھے غصہ آ گیا کہ میرے خدا نے مجھے نہیں پوچھا تو میں اس کی عبادت کیوں کروں اس کا یہ جواب چاہے پاگلانہ ہو مگر بہرحال کچھ نہ کچھ جواب تو ہے لیکن تمہارے پاس کیا جواب ہوگا؟میں نے دیکھا جس طرح کسی پر پورا اثر ہو جاتا ہے ویسی ہی کیفیت اس کی ہو گئی اس کی رونے والی حالت ہو گئی اور اس نے کہا کہ اب میں باقاعدہ نماز پڑھا کروں گا گیارہ بارہ بجے کے قریب ہم فارغ ہوئے اور وہ اپنی قیام گاہ پر چلے گئے گھر پہنچے تو انہوں نے اپنے نوکروں سے کہا۔کہ صبح نماز کے لئے مجھے ضرور جگا دینا آج میں سخت شرمندہ ہوا ہوں اگر کل انہوں نے پھر مجھ سے پوچھ لیا کہ نماز پڑھی تھی یا نہیں تو میں کیا جواب دوں گا نوکروں نے کہا کہ آپ بارہ بجے سونے لگے ہیں نو بجے سو کر بھی آپ صبح نہیں اٹھتے اور اب تو بہت رات گذر چکی ہے آپ صبح اٹھیں گے کس طرح ؟ انہوں نے کہا کچھ ہو مجھے ضرور جگا دینا۔اگر تم نے مجھے نہ جگایا تو میں تمہیں سز ادوں گا چنانچہ صبح ہوئی تو نوکروں نے جگا دیا۔اب وہ بیچارا نماز پڑھنے کا عادی تو نہیں تھا نوکروں کے جگانے پر اٹھ تو بیٹھا مگر اسی طرح سوئے ہوئے مسجد کی طرف چل پڑا راستہ میں کہیں ٹھوکر لگتی تو نوکر دوڑ کر اسے پکڑ لیتے۔آخر اسی طرح مسجد پہنچے اور پھر سوئے سوئے ہی انہوں نے نماز پڑھی۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو نیند کے غلبہ میں آتے وقت اپنا بوٹ تو وہیں چھوڑ گئے اور کسی کی پھٹی پرانی جوتی پہن کر چل پڑے نصف راہ تک پہنچے تو کسی نوکر کی نظر پڑ گئی اور اس نے کہا نواب صاحب یہ کیا؟ آپ تو کسی کی جوتی پہن کر آ گئے ہیں اس پر نواب صاحب کی بھی آنکھ کھلی اور وہ اپنے پائوں کی طرف دیکھ کر کہنے لگے بھئی جلدی جائو اور یہ جوتی بدل لائو۔ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص یہ کہے کہ میں اس کی جوتی چرا لایا ہوں اس واقعہ کی وجہ سے صبح مجھے معلوم ہوا کہ انہوں نے میری نصیحت پر عمل کرتے ہوئے آج مسجد میں جا کر نماز پڑھی تھی مگر نیند کے غلبہ کی وجہ سے وہ اپنا نرم اور نازک