تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 483

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى ۙ۰۰۴ (یہ تو) صرف (خدا سے )ڈرنے والے انسان کے لئے راہنمائی اور ہدایت (کے لئے )ہے حلّ لُغَات۔یخشیٰ خَشِیَسے مضارع واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے اور خشی کے معنے ہیںخَافَہ اس سے ڈرا (اقرب ) مفردات میںہے الْخَشْیَۃُ خَوْفٌ یَشُوْبُہ تَعْظِیْمٌ وَ اَکْثَرُ مَا یَکُوْنُ ذَلِکَ مِنْ عِلْمٍ بِـمَا یُخْشٰی مِنْہُ کہ خشیت کا لفظ خوف کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے لیکن ایسے خوف کے لئے جو کسی کی عظمت کی وجہ سے لاحق ہو اور یہ عام طور پر اس لئے ہوتاہے کہ جس سے ڈراجاتاہے اس کی شخصیت اور اس کے مقام کا علم ہوتاہے کہ وہ کس مرتبہ کا ہے(مفردات ) پس یخشی کے معنے ہوںگے جو خدتعالیٰ کی عظمت سے ڈرتاہو۔اور اس کے مقام اور مرتبہ کا خوف رکھتاہو۔تفسیر۔فرماتا ہے یہ قرآن دوسری کتابوں کی طرح محض انسان کے دل میں خدا کاڈرہی پیدا نہیںکرتابلکہ ڈر پیداکرنے کے بعد انسان کواور اوپر لے جاتاہے اورخدا سے ملادیتاہے۔یعنی اس کادوست بنا دیتاہے۔چنانچہ قرآن کریم کے شروع میںبھی فرمایا ہے کہ یہ کتاب هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ ہے یعنی جولوگ متقی ہوتے ہیںان کو مزید راستہ دکھاکر خدا تعالیٰ تک پہنچادیتی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ مقرب لوگ صرف ڈرا نہیں کرتے بلکہ انعامات کے امید وار بھی ہوتے ہیںاورمحبت کے شعلے ان کے دلوں میںبھڑک رہے ہوتے ہیں اوریہی وہ عالی مقام ہے جس کو قرآن کریم کے سواور کوئی کتاب پیش نہیںکرتی۔تَنْزِيْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰى ؕ۰۰۵ (قرآن )اس کی طرف سے اتاراہوا ہے جس نے زمین اور اونچے آسمان کوپیدا کیاہے حل لغات۔تَنْزِیْلًا نَزَّلَ کا مصدر ہے اور یہ اس لئے منصوب ہے کہ اس سے پہلے فعل محذوف ہے یعنی اَنْزَلْنٰہ تَنْزِیْلًا کہ ہم نے اس کو خوب اچھی طرح اتاراہے۔العُلیٰ العُلْیَا۔کی جمع ہے اور الْعُلْیَا الاعلیٰ کا مونث کا صیغہ ہے (مفردات ) پس السمٰوٰت العلیٰ کے معنے ہوں گے بلند آسمان۔تفسیر۔اس آیت میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جس خدا نے مادہ کو پیدا کیا اور بے انتہا درجوں میں