تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 468
ہے غرض ہررنگ میںاس کتاب کو بوجھ ہونے سے بچایا گیاہے۔سورۃ طٰہٰ کا سورۃ مریم سے تعلق اس سورۃ کاوسیع تعلق پہلی سورۃ سے یہ ہے کہ سورۃمریم میںمسیحیت کی ابتدائی تاریخ بیان کی گئی تھی اور بتایاگیا تھاکہ مسیح ؑ کی آمد تو توحید کے قیام کے لئے تھی مگر مسیحیوں نے اسے شرک کاذریعہ بنا دیا اور شریعت کو اڑا دیا اور اسے لعنت قرار دے دیا۔اب سورۃ طٰہٰ میںابتدائے اسرائیلیت کی طرف مضمون کو منتقل کیا گیاہے۔اور بتایا ہے کہ موسیٰ ؑکا بڑاکارنامہ اس کی شریعت تھی۔چنانچہ موسوی سلسلہ کی طرف اس سورۃ میںاللہ تعالیٰ نے تفصیل سے توجہ دلائی اور بتایا کہ موسوی سلسلہ شریعت اور توحید پر قائم تھا۔اس کی شاخ عقلاًتوحید کے خلاف نہیں ہوسکتی۔پس توحید کے خلاف مسیحی تعلیم بعد کی داخل شدہ ہے۔پھر اللہ تعالیٰ موسیٰ ؑسے ابتدائے آفرینش تک شریعت اور گناہ کی حقیقت بیان کرنے کے لئے مضمون لے گیاہے جس کا نہ سمجھنا درحقیقت لاشرعیت اور شرک مسیحی کی جڑ اور منبع ہے۔لاشرعیت کی اس لئے کہ اگر ابتدائے عالم سے وحی کو جاری نہ سمجھا جائے تویہ بھی ماننا پڑے گا کہ انسان کسی زمانہ میں بغیر شریعت کے بھی رہ سکتاہے اور شرک کامنبع اس لئے کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی نہیں آئی توپھر انسان کو کوئی قانون اپنے لئے بنانا پڑےگا اور وہی خدا کاقائم مقام ہوجائےگا یعنی خدا کاشریک بن جائےگا۔خلاصہ مضامین اس سورۃ کے مضامین کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن آسانیاں پیدا کرنے کےلئے آیا ہے نہ کہ تکلیف میں ڈالنے کے لئے اس کا سمجھنا آسان ہے مگر دل کی کھڑکی کھولنی ضروری ہے اس میںبنی نوع انسان کے ادنیٰ اوراعلیٰ احساسا ت اوران کی تمام ضرورتوںکا ذکر ہے اور خدا تعالیٰ نے ابتدائے آفرینش سے انسانی پیدائش میں یہ بات مد نظر رکھی تھی کیونکہ وہ فطرت کے باریک رازوںسے واقف ہے اور ہر قسم کی ضرورتوں کے سامان مہیا کرنے اس کے اختیار میں ہیں۔پس جو قانون خدا تعالیٰ دے وہ عذاب نہیں بلکہ رحمت ہے (آیت ۳تا ۹ ) مسیحیوں کو چاہیے کہ ان صداقتوں کے سمجھنے کے لئے موسیٰ ؑ کے حالات پر غور کریں اور سوچیں کہ کس طرح مایوسی کے وقت میںاللہ تعالیٰ نے اس کی مدد کی اور اسے ہدایت بخشی اور اس پر اپناوجود ظاہر کیا جو توحید کے رنگ میںہی تھا۔غرض موسیٰ ؑ کو برگزیدہ بنایا گیا اور وہ وحی الٰہی کا حامل ہوا اور اسے سب سے پہلا حکم شریعت توحید کا ہی دیا گیا اور کہا گیا کہ لَااِلٰہَ اِلَّا اَ نَا۔یعنی تمام جہان میںصرف میں ہی ایک معبود ہوں۔اور عبادت الٰہی کی تاکید کی گئی اور برے بھلے عمل کی جزا و سزا کاوعدہ دیا گیا اوربتایا گیا کہ جزا و سزامطابق اعمال ہوگی نہ کہ مطابق کفارہ۔(آیت ۱۰تا۱۶)