تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 409
زبان کا ہی لفظ ہے مگر قرآن کریم نے اس لفظ کو کہیں استعمال نہیں کیا۔اسی طر ح حدیث میں بھی یہ لفظ استعمال نہیںہوا۔یہ لفظ لوگوں نے خود وضع کیاہے مگر یہ بھی اس مفہوم کو ادانہیںکرتاجس کے لئے اسے تجویز کیا گیا ہے۔قرآن کریم نے اس کےلئے آیت کا لفظ استعمال کیاہے آیت کے معنے علامت اور نشان کے ہوتے ہیں۔اسی سے نشان کالفظ بنایا گیاہے مگر نشان کا لفظ بھی وہ مضمون ادانہیں کرتاجو آیت کا لفظ اداکرتاہے آیت کالفظ اس بات پر دلالت کرتاہے۔کہ کوئی چیز کسی دوسری چیز کی طر ف اشارہ کرتی اور اس کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نشان ظاہر کئے جاتے ہیں وہ بغیر کسی مقصد کے نہیںہوتے کوئی نہ کوئی مقصد اور کوئی نہ کوئی غرض ان کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے معجزہ کا لفظ صرف ایک طاقت کا اظہار کرتاہے جیسے کسی کو ڈنڈاماراجائے اور وہ بھاگ جائے تو اس ڈنڈامارنے والے کی طاقت کا اندازہ ہو جاتا ہے لیکن آیت یہ بتاتی ہے کہ کسی خاص مقصد کو سامنے رکھا گیاہے اور اس مقصد کو واضح کرنے اور لوگوں کو سمجھانے کےلئے اسے ایک دلیل کے طور پر پیش کیا گیاہے۔دنیا میں جس قدر مذاہب پائے جاتے ہیں ان پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتاہے کہ ہر مذہب لوگوںکے سامنے بعض ایسی چیزیں بھی پیش کرتاہے جو نظر نہیں آتیں۔اور چونکہ وہ پوشیدہ ہوتی ہیں ان کے ثبوت کےلئے بعض دوسری دلیلیں پیش کرنی پڑتی ہیں۔ان میں سے بعض دلیلیں تو خالص عقلی ہوتی ہیں اور بعض دلیلیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طاقت اور اس کی قدرت اور اس کے علم غیب کا بھی ثبوت رکھتی ہیں جس کی وجہ سے ان کا سمجھنا لوگوںکے لئے زیادہ آسان ہوتاہے۔مثلاًانبیاء کی نبوت کا مسئلہ ہے۔آج تک دنیا میں کسی نے نہیں دیکھا کہ آسمان سے فرشتہ آیا ہو اور اس نے کسی نبی سے باتیںکی ہوں۔پس چونکہ یہ ایک مخفی چیز ہے اس لئے اس کی تصدیق آیات سے کی جاتی ہے جواس بات کی علامت ہوتی ہیں کہ یہ نبی جو کچھ کہہ رہا ہے اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہہ رہا ہے اسی طر ح خدا تعالیٰ کا وجود آج تک کسی نے نہیں دیکھا۔پس اس کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے بعض دلائل دیئے جاتے ہیں جن سے وہ وجود ہماری آنکھوں کے قریب آجاتاہے اور عقل قبول کر لیتی ہے کہ خدا تعالیٰ موجود ہے اور اس کے اندر یہ یہ صفات پائی جاتی ہیں۔ایسی دلیلیں قرآن کریم کی رو سے آیات کہلاتی ہیں۔کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے علم غیب یا اس کی قدرت یا اس کے حی وقیوم ہونے کے ثبوت کے طورپر ظاہر ہوتی ہیں۔مثلاًایک نبی غیب کی خبر دیتاہے اور ساتھ ہی کہتاہے کہ خد انے مجھے یہ خبر بتائی ہے۔اب ہرشخص جانتاہے کہ انسان میں غیب معلوم کرنے کی طاقت نہیں۔اگر ہو تو یہ کبھی نہیں ہوسکتاکہ وہ اس طاقت کو اپنی طرف منسوب نہ کرے۔ہم تو