تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 408
طَهُوْرًا اور پلائے گا ان کو ان کا رب ایک پاک کرنےوالا شربت مگر آگے فرماتا ہے اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا یہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جزاء ہے اور تمہاری کوششوںکی قدر کی گئی ہے اس جگہ پہلے سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ کہہ کر غیب کی ضمیر استعمال گئی ہے اور پھر ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً یہ تمہارے لئے جزاء ہے كَانَ سَعْيُكُمْ مَّشْكُوْرًا اور تمہاری سعی کی قدر کی گئی ہے اس مثال کوپیش کرکے علامہ قرطبی کہتے ہیں کہ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا میں بھی غائب کی ضمیر کی طرف مِنْکُمْ کہہ کر اشارہ کیاگیا ہے اورمراد کافرہی ہیں مومن نہیں۔غرض دونوںمعنے جومیں نے اوپر کئے ہیںوہ حدیثوں سے بھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے اقوال سے بھی ثابت ہیں۔وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا او رجب انہیں ہماری کھلی کھلی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کافر مومنوںسے کہتے ہیں (بتاؤ تو) ہم دونوں فریق لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَيُّ الْفَرِيْقَيْنِ خَيْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِيًّا۰۰۷۴ میں سے کون سا فریق درجہ کے لحاظ سے اور ہم جلیسوں کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے۔حل لغات۔النَّدِیُّ کے معنے ہیں النَّادِیْ۔مجلس (اقرب) تفسیر۔وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ کالوگ عموماًغلط ترجمہ کرتے ہیں۔شاہ رفیع الدین صاحب نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے۔کہ ’’جب پڑھی جاتی ہیں اوپر ان کے نشانیاں ہماری ظاہر ‘‘۔حالانکہ یہ نہ اردو ہے اور نہ اس کے کوئی معنے ہیں تَلَاعَلَیْہِ کے معنے ہوتے ہیں ’’اس کو پڑھ کر سنایا ‘‘جب انسان ایسی طرز پر پڑھے کہ اس کی غرض یہ ہوکہ دوسرا بھی سن سکے تو اس کے لئے عربی زبان میں تلاعلیہ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔پس وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ کاترجمہ یہ ہوگا کہ جب ہماری آیات ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیںجو بَیِّنَاتٍ بھی ہوتی ہیں۔عربی زبان اور قرآن کریم کی یہ خصوصیت ہے کہ جو الفاظ وہ کسی مضمون کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال کرتاہے ان میںنہ صرف اشارہ پایا جاتاہے بلکہ اس مضمون کی وضاحت بھی انہیں الفاظ میں موجود ہوتی ہے۔مثلا ًاردو میں عام طور پر نشانات الہیہ کے متعلق معجزہ یا نشان وغیرہ الفاظ استعمال کئے جاتے ہیںحالانکہ ان میں سے کوئی لفظ بھی ایسا نہیں جو معجزات کی غرض وغایت اور ان کے حقیقی مقصد کو واضح کرنے والا ہو معجزہ بھی یوں تو عربی