تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 398
برس پورے نہ ہولئے باقی مردے زندہ نہ ہوئے۔پہلی قیامت یہی ہے۔‘‘ (مکاشفہ باب ۲۰آیت ۴تا ۵) مگر باوجود اس کے کہ ہر مذہب نے اُخروی حیات کو تسلیم کیا ہے اس زمانے میں سب سے بڑا انکا ر بعث بعد الموت کا ہی کیا جاتاہے۔اور اس زندگی کے متعلق ایک قسم کے تذبذب اور شک والی کیفیت لوگوں کے قلوب میں پائی جاتی ہے۔پس ’’الانسان ‘‘سے مراد عام انسان نہیں کیونکہ ان میں تو وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کو اس زندگی پرکامل یقین ہے۔اس جگہ ’’الانسان‘‘سے وہی انسان مراد ہے جو اُخروی حیات پر تعجب کا اظہار کرتاہے اور کہتاہے کہ کیا واقعہ میں مَیں نے مرنے کے بعد زندہ ہونا ہے اور یا پھر ’’الانسان ‘‘سے مراد جنس انسان ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ شخص جو جنس انسان سے تعلق رکھتاہے۔وہ یہ بات کہتاہے۔اور یہ سخت قابل تعجب ہے کیونکہ انسان تو دو اُنسوںسے مرکب ہے اوراس کی فطرت بعث مابعد الموت پردلالت کرتی ہے۔پھر انسان ہو کروہ یہ کیونکر کہہ سکتاہے۔کہ کیا واقعہ میں مَیں نے مرنے کے بعد زندہ ہونا ہے۔جب ہم ’’کیا‘ ‘کا لفظ بولیں تواس میں دونوں باتیں آجاتی ہیں یعنی نامعلوم ایسا ہونا ہے یا نہیں ہونا۔اَوَ لَا يَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ يَكُ شَيْـًٔا فرماتا ہے کیا یہ انسان اس بات کو نہیں جانتاکہ اس سے پہلے ہم نے اس کو پیدا کیا حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں تھا۔لَمْ يَكُ شَيْـًٔا سے مراد یہ ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں تھا جو قابل ذکر ہو۔جیسے دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـًٔا مَّذْكُوْرًا (الدھر:۲) پس لَمْ يَكُ شَيْـًٔا سے یہ مراد ہے کہ وہ کسی ایسی حیثیت میں نہیں تھا جو قابل ذکر ہو۔یا جس کو کوئی اہمیت دی جاسکے۔یعنی وہ نطفہ کی حالت میں تھا۔یا جمادات اور نباتات کی حالت میں تھا۔گویا اس وقت ایک شئے تو تھی مگر شَيْـًٔا مَّذْكُوْرًا نہیںتھی۔شَيْـًٔا مَّذْكُوْرًا وہ چیز ہوتی ہے جو اہمیت رکھتی ہواور توجہ کے قابل ہو۔اگر ایک ذلیل اور حقیر اور ناقابل ذکر چیز کو ترقی دےکر اللہ تعالیٰ نے انسان بنا دیا تو وہی انسان اگر مرنے کے بعد مٹی ہو جاتا ہے تو اس مٹی سے دوبارہ انسان بنا دینا کوئی تعجب کی بات نہیں ہوسکتی۔