تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 397

بری چیزیں۔لیکن اب وہ یہاں تسلی پاتاہے۔اور تو تڑپتاہے۔اور ان سب باتوں کے سوا ہمارے تمہارے درمیان ایک بڑاگڑھا واقع ہے۔ایسا کہ جو یہاں سے تمہاری طرف پار جاناچاہیں نہ جاسکیں۔اور نہ کوئی ادھر سے ہماری طرف آسکے۔اس نے کہا پس اے باپ میں تیری منت کرتا ہوں کہ تو اسے میرے باپ کے گھر بھیج کیونکہ میرے پانچ بھائی ہیں تاکہ وہ ا ن کے سامنے ان باتوں کی گواہی دے ایسانہ ہو کہ وہ بھی اس عذاب کی جگہ میں آئیں۔ابراہام نے اس سے کہا ان کے پاس موسیٰ اور انبیا ء تو ہیں ان کی سنیں۔اس نے کہا نہیں اے باپ ابراہام ہاں اگر کوئی مردوں میں سے ان کے پاس جائے۔تو وہ توبہ کرلیںگے۔اس نے اس سے کہا کہ جب وہ موسیٰ اور نبیوں ہی کی نہیں سنتے تو اگر مردوں میں سے کوئی جی اٹھے تو اس کی بھی نہ مانیں گے۔‘‘ (لوقاباب ۱۶آیت ۱۹تا۳۱) ’’مکاشفہ ‘‘میں بھی لکھا ہے۔’’پھر میں نے آسمان میں سے یہ آواز سنی کہ لکھ۔مبارک ہیں وہ مردے جو اَب سے خداوند میں مرتے ہیں روح فرماتا ہے بے شک کیونکہ وہ اپنی محنتوں سے آرام پائیںگے اور ان کےاعمال ان کےساتھ ساتھ ہوتے ہیں ‘‘ (مکاشفہ باب ۱۴آیت ۱۳) غرض حضرت مسیح ؑنے بعث بعدا لموت کی تائید کی ہے اور عیسائی لٹریچر بھی سارے کاسار ا اس تعلیم سے بھرا پڑا ہے کہ مرنے کے بعد ہر انسان کو ایک نئی زندگی حاصل ہوگی صرف اس قدر فرق ہے کہ عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح ؑ کے دوبارہ آنے پر اسی دنیا میں ساری روحیںآجائیںگی۔اور یہیں ان کو جزاو سزا دی جائے۔چنانچہ متی میں لکھاہے۔’’میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب ابن آدم نئی پیدائش میں اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا تو تم بھی جو میرے پیچھے ہولئے ہو بارہ تختوں پر بیٹھ کر اسرائیل کے بارہ قبیلوں کا انصاف کروگے اورجس کسی نے گھروں یا بھائیوں یا بہنوں یا باپ یا ماں یابچوں یا کھیتوں کو میرے نام کی خاطر چھوڑ دیا ہے اس کو سو گنا ملے گا اور ہمیشہ کی زندگی کا وارث ہوگا۔‘‘ (متی باب ۱۹آیت ۲۹) اسی طرح مکاشفہ میں لکھا ہے کہ وہ لوگ ’’جنہوں نے نہ اس حیوان کی پرستش کی تھی نہ اس کے بت کی اور نہ اس کی چھاپ اپنے ہاتھوں اور ماتھے پر لی تھی وہ زندہ ہوکر ہزار برس تک مسیح کے ساتھ بادشاہی کرتے رہے اورجب تک یہ ہزار