تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 393

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ (وہ )آسمانوں کا (بھی)رب (ہے )اور زمین کا بھی (رب)اور جوکچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔پس لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّاؒ۰۰۶۶ (اے مسلمان )اس کی عباد ت کر اور اس کی عبادت پر ہمیشہ قائم رہ کیا تو اس کا کوئی ہم صفت جانتاہے۔تفسیر۔عربی زبان میں اِصْطَبَرَعَلَیْہِ ایک محاورہ ہے جس کے معنے ہیں کسی با ت پر مضبوطی سے قائم رہنا۔اور اس کے متعلق جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کرنامگر یہاں واصْطَبَرَعَلَی عِبَادَتِہٖ نہیں کہا کہ عبادت کر مضبوطی سے قائم رہ بلکہ یہ کہا ہے کہ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ تو اس کی عبادت کےلئے ہمت اور بہادری کا مظاہر ہ کر۔اس میں بتایا گیاہے کہ لوگ تجھے عبادت خالص نہیں کرنے دیں گے۔پس تو مخالفت کی پروا نہ کر بلکہ بہادری اور استقلال کے ساتھ اس پر قائم رہ۔اورپھر لِعِبَادَتِهٖ کہہ کر یہ بتایا کہ ان اوصاف کا مظاہرہ محض عبادت کی خاطرکر عبادت پر قائم تو انسان اور کئی وجوہ سے بھی ہو سکتا ہے۔یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ عبادت کی خاطر جرأت اور عبادت کی خاطر بہادری اور عبادت کی خاطر استقلال دکھا۔گویا عبادت کو دوسری اشیا ءکےلئے نہیں بلکہ دوسری اشیاء کو عبادت کے لئے پسند کر اور عبادت تیرے لئے ذریعہ کا کام نہ دے بلکہ تیرا مقصود اور مدعا بن جائے۔پس وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ کے یہ معنے ہوئے کہ تو عبادت کی خاطر جرأت اور بہادری سے کام لے۔یہ نہیں کہ عبادت پر قائم رہنے کے لئے جرأت دکھا بلکہ عبادت کی خاطر جرأت دکھا عبادت کی خاطر دلیری دکھا عبادت کی خاطر استقلال دکھا۔تاکہ تیری عبادت زیادہ اعلیٰ سمجھی جائے اور عبادت تیرے لئے ایک ذریعہ نہ بنے۔بلکہ عبادت ہی تیرامقصود بن جائے۔اسی طرح رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ کہہ کر اس طرف بھی اشارہ کردیاہے کہ اب خدا رب العالمین کی حیثیت سے کلام کرے گا صرف بنی اسرائیل کو مخاطب نہیں کرے گا۔