تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 379

’’خداکے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور وہ غائب ہو گیا کیونکہ خدا نے اسے اٹھالیا۔‘‘ (پیدائش باب ۵آیت ۲۴ ) پس اگر مسیح ؑ آسمان پر جانے کی وجہ سے خدایا خدا کا بیٹا کہلا سکتاہے تو ادریس ؑ کی الوہیت کا بھی مسیحی دنیا کو اقرار کرنا چاہیے کیونکہ بائبل کی رو سے وہ بھی آسما ن پر اٹھایا گیا تھا۔بہر حال ادریس ایک ایساوجود ہے جس کے ذریعہ مسیحی دنیا کے اس خیال کی تردید ہوتی ہے جس پر مسیح کی الوہیت کی بنیاد رکھی گئی ہے یعنی مسیح ؑ کا آسمان پر زندہ چلے جانا۔اور صرف یہی ایک حصہ تھا جس کی ابھی تک تردید نہیں ہوئی تھی۔باقی سب باتوں کی خدا تعالیٰ نے تردید کردی تھی مگر عیسائیوں کے اس خیال کی ابھی تردید باقی تھی کہ مسیح آسمان پر چلا گیا ہے۔اور یہ ایک ایسی بات تھی جو پہلے کسی نبی میں تسلیم نہیںکی جاتی۔نہ زکریا ؑ کے متعلق لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آسمان پر گئے نہ یحيٰ ؑ کے متعلق لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آسمان پر گئے نہ ابراہیم ؑ کے متعلق لوگ تسلیم کرتے ہیںکہ وہ آسمان پر گئے نہ اسحاق ؑ اور یقوب ؑ کے متعلق لوگ تسلیم کرتے ہیںکہ وہ آسمان پر گئے نہ موسیٰ ؑکے متعلق لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آسمان پر گئے نہ ہارون ؑ کے متعلق لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آسمان پر گئے نہ اسماعیل ؑ کے متعلق لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آسمان پر گئے۔صرف ادریس کے متعلق کہا جاتاہے کہ وہ آسمان پر گئے او رروایات کے مطابق جس شان سے ادریس ؑ کا آسمان پرجانا بتایا گیا ہے اس شان سے مسیح کا بھی آسمان پر جاناثابت نہیں۔پس وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِدْرِيْسَ١ٞ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا۔وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا۔میں بتایا کہ مسیح ؑ کے متعلق تم کہتے ہوکہ وہ آسما ن پر گیا۔ہم تمہارے سامنے ادریس ؑ کو پیش کرتے ہیں۔ادریس ؑ کے حالات مسیح کے حالات سے بہت زیادہ شاندار ہیں پس اگر ان حالات کی وجہ سے جو مسیح کو پیش آئے وہ الوہیت میں شریک ہو سکتا ہے تو ادریس اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اسے خدا تعالیٰ کی الوہیت میں شریک قرار دیاجائے۔قرآن کریم میں بھی مسیح کے متعلق تو صرف اتناہی آتاہے کہ رَفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ (النساء :۱۵۹)خدا نے اسے اپنی طرف اٹھالیا مگر ادریس کے متعلق فرماتا ہے کہ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا ہم نے اسے ایک بلند مقام پر اٹھالیا چنانچہ معراج کی حدیث میں بھی آتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح کو دوسرے آسمان پر اور ادریس ؑ کو چوتھے آسمان پر دیکھا(دلائل النبوة للبہیقی جلد ۲ باب الدلیل علی ان النبی عرج بہ الی السماء)۔گویا وہ مسیح سے بھی اونچا اٹھایا گیا۔پس اگر ان الفاظ پر بنیا د رکھتے ہوئے تم مسیح کو خدا قرا دیتے ہو تو ادریس ؑ کو کیوں خدا قرار نہیں دیتے۔