تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 362
قریباًقریباً انہی معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوتاہو جن معنوں میں عربی میں استعمال ہوتاہے۔اس وجہ سے ابن السکیت کو غلطی لگ گئی ہو اور انہوں نے سمجھ لیا ہو کہ یہ عربی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم بھی یہی مانتے ہیں کہ یہ عربی نہیں اگر عربی ہوتاتو غیر منصرف نہ ہوتالیکن ہم یہ سمجھیں گے کہ اس زبان میں بھی اس کے یہی معنے ہوںگے اس وجہ سے ابن السکیت کو دھوکہ لگ گیا مگر میرے نزدیک دونوں فریق کو دھوکہ لگا ہے۔ابن السکیت نے جو یہ کہا ہے کہ یہ عربی لفظ ہے یہ غلط ہے (تفسیر قرطبی)۔اگر قاعدہ کی روسے یہ عربی ہوتا توغیر منصرف نہیں ہوسکتاتھا۔اور جو دوسرے علماء نے کہا ہے کہ عجمی لفظ ہے اور عجمی لفظ ہونے کی وجہ سے غیر منصر ف ہوگیا ہے۔انہوں نے بھی حقیقت کو پورے طور پر نہیں سمجھا اس لئے کہ وہ بھی مانتے ہیں کہ اس کانام حنوک تھا اور جب اس کا نام حنوک تھا تو پھر ادریس اس کا ترجمہ ہوا اور جب یہ ترجمہ ہوا تو اس کے معنے یہ ہوئے کہ اس میں علمیت نہ رہی اور اس کے غیر منصرف ہونے کی بھی کوئی وجہ نہ رہی کیونکہ غیر منصرف ہونے کےلئے ضروری ہے کہ اگر عَلَم ہوتو وہ عجمی ہو اگر ادریس ترجمہ ہے حنوک کا توپھر علمیت نکل گئی اور اگر یہعَلَم ہے تو پھر ادریس حنوک کا نہیں بلکہ کسی اور نبی کانام ہوگا۔اور اگر وہ حنوک ہی ہے تو ادریس اس کا ترجمہ ہو ااور جب یہ ترجمہ ثابت ہوگیا تو علمیت سے بھی نکل گیا۔پس جن لوگوں نے اسے غیر منصرف قرار دیا ہے انہیں بہر حال غلطی لگی ہے۔ورنہ اسے غیر منصرف قرار دینے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔اب ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ جب ادریس حنوک کا ترجمہ ہے تو پھر عربوں نے اسے غیر منصرف کیوں قرار دے دیا آخر عربوں میں ادریس کانا م پہلے بھی پایا جاتاتھا او روہ قرآن کریم کے نزول سے پہلے ہی اس کے غیر منصرف ہونے کا فیصلہ کرچکے تھے۔پس جب نزول قرآن سے پہلے ہی وہ اسے غیر منصرف قرار دے چکے تھے تو ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ ان کو یہ غلطی کیوں لگی اور وہ اس دھوکہ میں کس طرح مبتلا ہوگئے۔کہ یہ غیر منصرف ہے۔واقعہ یہ ہے کہ ہمارے علماء کو یہ دھوکہ رہا ہے کہ وہ عربی زبان کے بھی بڑے ماہر ہیں اور غیر زبانوں کا بھی بڑا مطالعہ رکھتے ہیں حالانکہ وہ عربی زبان کے تو بے شک ماہر ہوںگے مگر غیر زبانوں کے متعلق ان کا مطالعہ بہت ہی محدود تھا۔اورنہ صرف غیر زبانوں کے متعلق بلکہ غیر مذاہب کے متعلق بھی ان کے معلومات نہایت سطحی تھے ہم جب تفاسیر پڑھتے ہیں اور ان میں بائبل کے حوالے آتے ہیں تو ہمیں ان حوالوں کو پڑھ کر شرم آجاتی ہے کیونکہ وہ اتنے غلط اور خلاف واقعہ ہوتے ہیں کہ توراۃ او ر انجیل سے انہیں کوئی دور کی بھی نسبت نہیں ہوتی بالکل غلط اور سرتاپا غلط حوالہ جات ان تفسیروں میں آجاتے ہیں۔اور لکھا ہوتاہے کہ یہ بات تورات میں ہے۔یہ بات انجیل میں ہے۔حالانکہ وہ با ت نہ توراۃ میں موجود ہوتی ہے نہ انجیل میں موجود ہوتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ محض یہودیوں سے