تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 356
تو نازل ہی اسی لئے کی گئی تھی کہ اسے لوگوں تک پہنچایا جائے پس نَجِيًّا سے صرف وہ پیغام مراد ہے جس میں موسیٰ ؑ کے علاوہ دوسرے لوگ شریک نہیں تھے اور عقلاً بھی وہی بات مخفی کہلا سکتی ہے جس میں دوسرے شریک نہ ہوں پس اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے موسیٰ کو قریب کیا اور اس سے وہ باتیں کیں جن میں دوسرے لوگ شریک نہیں تھے۔اس پر ہم نے اپنے علوم روحانیہ نازل کئے اس سے محبت اور پیار کی باتیں کیں اور اسے اپنے خاص اسرار بتائے اس میں بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ جن لوگوں پر اپنی شریعت یاروحانیت کے رازکھولتاہے ان کو اپنا مقرب بنالیتا ہے۔(۲) نَجِيًّا کے دوسرے معنے بات کرنے کے ہیں اس لحاظ سے آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم نے اس کو قریب کیا بات کرتے ہوئے چنانچہ تورات نازل ہوئی جس سے دوہزار سال تک لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔(۳)نَجِيًّا کے تیسرے معنے سَرِیْعًا کے ہیں پہلے فرمایا تھا کہ كَانَ مُخْلَصًا موسیٰ کو ہم نے انسانوںمیں سے چن لیا اوراب فرماتا ہے کہ جب بات کرنےکا وقت آیا تو وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِيًّا ہم نے کہا موسیٰ آہستہ آہستہ نہیں تیز قدم کے ساتھ چل کر ہماری طرف آئو۔چنانچہ موسیٰ دوڑتے ہوئے ہماری طرف آیا۔جیسا کہ سورہ طٰہٰ میں ہی ذکر آتاہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے کہا وَ عَجِلْتُ اِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى(طہ:۸۵) یعنی اے میرے رب میں اس لئے تیرے پاس جلدی جلدی آیا ہوں تاکہ تو میرے اس فعل سے خوش ہوجائے۔دوسرے معنے اس کے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ہم نے اس کو قریب کیا جبکہ ہم سرعت کے ساتھ اس کی طرف چل رہے تھے یعنی موسیٰ کو بھی ہم نے کہا کہ تیز تیز ہماری طرف آاور ہم نے بھی اس کی طرف محبت میںدوڑنا شروع کردیا۔گویا اس میں وہی مضمون بیان کیا گیاہے جو ایک حدیث میں آتاہے کہ بندہ جب خدا تعالیٰ کی طرف چل کرجاتاہے تو خدا تعالیٰ اس کی طرف دوڑکر آتاہے (مسلم کتاب الذکر والدعا و التوبة والاستغفار باب فضل الذکر و الدعا والتقرب الی اللہ و حسن انطن بہ )۔یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔اُدھر سے موسیٰ خدا کی طرف دوڑا اور ادھر سے خداموسیٰ کی طرف دوڑا اور دونوں آپس میں مل گئے۔وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِيًّا۰۰۵۴ اورہم نے اس (یعنی موسیٰ )کو اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون نبی بناکر (مددگار کے طورپر ) دیا۔حل لغات۔اَخَاہُ۔وَھَبْنَا کا مفعول ہے۔اور مراد یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو اس کا بھائی بخشا۔